زکوۃ و نصاب زکوۃ

فلیٹ ملکیت میں ہونے پر زکوۃ واجب ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
93302
| تاریخ :
2026-03-16
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

فلیٹ ملکیت میں ہونے پر زکوۃ واجب ہونے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم علمائے کرام! درج ذیل دو صورتوں کے بارے میں زکوٰۃ کے حکم سے متعلق رہنمائی مطلوب ہے: پہلی صورت: ایک شخص کی ملکیت میں ایک فلیٹ ہے جسے کرایہ پر دیا گیا ہے۔ اس فلیٹ کی خریداری کا مقصد نہ تو اسے آگے فروخت کرنا تھا اور نہ ہی اس کی قیمت بڑھنے سے سرمایہ کاری کا فائدہ حاصل کرنا، بلکہ صرف اتنا مقصود تھا کہ اس کے کرائے سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے گھر کے ضروری اخراجات پورے کیے جائیں، براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ ایسی صورت میں اس شخص پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں؟ اگر زکوٰۃ واجب ہو تو کیا اس کا حساب فلیٹ کی موجودہ مالیت پر کیا جائے گا یا صرف کرایے سے حاصل ہونے والی آمدنی پر؟ یہ بھی واضح رہے کہ کرایے سے حاصل ہونے والی پوری رقم گھریلو ضروریات پر خرچ ہو جاتی ہے اور نہ ماہ کے آخر میں کوئی رقم بچتی ہے اور نہ ہی سال مکمل ہونے پر کوئی بچت موجود ہوتی ہے۔ دوسری صورت: ایک شخص اپنے بھائی کے ساتھ اپنے مرحوم والد کی وراثت میں ملنے والے ایک پلاٹ کا پچاس، پچاس فیصد (50/50) شریکِ مالک ہے۔ اس پلاٹ پر وقتاً فوقتاً ایک عمارت تعمیر کی گئی جس میں گراؤنڈ فلور سمیت تین منزلوں پر فلیٹس موجود ہیں۔ ان میں سے ایک فلیٹ خاندان کی رہائش کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ باقی فلیٹس کرایہ پر دیے گئے ہیں تاکہ ان کے کرائے سے گھر کے ضروری اخراجات پورے کیے جاسکیں۔ اس صورت میں بھی کرایے سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی گھریلو ضروریات پر خرچ ہو جاتی ہے، لہٰذا نہ ہر ماہ کے اختتام پر کوئی بچت باقی رہتی ہے اور نہ ہی سال گزرنے پر۔ براہِ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت میں زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں؟ اگر واجب ہوگی تو اس کا حساب کس بنیاد پر کیا جائے گا؟ کیا زکوٰۃ جائیداد کی مالیت پر ہوگی یا صرف بچ جانے والی آمدنی پر؟ جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ زمین ، مکان وغیرہ کی مالیت پر زکوۃ اس وقت لازم ہوتی ہے جب اس کو تجارت کی نیت سے خریدا جائے، جبکہ رہائش کی نیت سے مکان خریدنا یا مکان خرید کر کرایہ پر دینے کی صورت میں اس مکان کی مالیت پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، بلکہ اس مکان سے حاصل ہونے والاجس قدر کرایہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت صاحب نصاب شخص کی ملکیت میں موجودہو، اس کودیگراموال زکوۃ کے ساتھ شامل کرکے اس پر زکوۃ لازم ہوتی ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں مذکور دونوں صورتوں میں کرایہ کے ان مکانات سے حاصل ہونے والا کرایہ میں سے ہرشریک کاحصہ علیحدہ طورپراگر نصاب زکوٰۃکو پہنچتا ہو اوراس پرایک قمری سال بھی گزرجائے تو اس پر زکوۃ لازم ہوگی ، وگرنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الہندیۃ: (ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة،(کتاب الزکوۃ، الباب الأول في تفسير الزكوة و صفتها، ج: ١، س: ١٧٢، مط: ماجدية)
وفيها أيضاً: ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة، ولو دخل من أرضه حنطة تبلغ قيمتها قيمة نصاب ونوى أن يمسكها أو يبيعها فأمسكها حولا لا تجب فيه الزكاة كذا في فتاوى قاضي خان.»(الى قوله) وكذلك العطار لو اشترى القوارير، ولو اشترى جوالق ليؤاجرها من الناس فلا زكاة فيها؛ لأنه اشتراها للغلة لا للمبايعة كذا في محيط السرخسي.(كتاب الزكوة، الباب الثالث في زكاة الذهب والفضة، الفصل الثاني في العروض، ج: ١، ص: ١٨٠ ، مط: ماجدية)
وفي البدائع: وأما فيما سوى الأثمان من العروض فإنما يكون الإعداد فيها للتجارة بالنية؛ لأنها كما تصلح للتجارة تصلح للانتفاع بأعيانها بل المقصود الأصلي منها ذلك فلا بد من التعيين للتجارة وذلك بالنية.(كتاب الزكوة، فصل الشرائط التي ترجع الى المال، ج: ٢، ص: ١١، مط: سعيد)
وفي الدر المختار: و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم. وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كثيابه أو تقديرا كدينه(نام ولو تقديرا) بالقدرة على الاستنماء ولو بنائبه. ثم فرع على سببه بقوله (فلا زكاة على مكاتب) لعدم الملك التام، ولا في كسب مأذون،(الى قوله) (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لأهلها إذا لم تنو للتجارة،(كتاب الزكاة، ج: ٢، ص: ٢٦٢-٢٦٥، مط: سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93302کی تصدیق کریں
0     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات