کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر ایک آدمی کسی دکاندار سے یہ کہے کہ ہر مہینے فلاں مدرسے کو زکوٰۃ کی مد میں میری طرف سے 10 ہزار روپے کا راشن دے دیا کرو تو کیا اس طرح زکوٰۃ کا طریقہ ٹھیک ہے؟
صورت مسؤلہ میں اگر مذکور شخص دکاندار کو اپنی جانب سے زکوٰۃ کی ادائیگی کا وکیل بنادے اور وہ اس شخص کی جانب سے ہر ماہ کسی مدرسے میں دس ہزار کا راشن دے دیا کریں اگر اس مدرسہ میں مستحق زکوۃ طلباء زیر تعلیم ہوتو ان مستحق طلباء کیلئے زکوۃ کی مد میں مذکور طریقہ پر راشن دینے کی صورت میں زکوۃ دینے والے کی جانب سے دئیے گئے راشن کے بقدر زکوٰۃ ادا ہوجائے گی ۔
کما فی ردالمحتار: (تحت قوله ولو تصدق إلخ) أنه لا يشترط الدفع من عين مال الزكاة، ولذا لو أمر غيره بالدفع عنه جاز كما قدمناه،اھ(كتاب الزكاة،ج: 2،ص: 270،مط: دارالفکر)
و فی البحر الرائق: ولم يشترط أيضا الدفع من عين مال الزكاة لما قدمناه من أنه لو أمر إنسانا بالدفع عنه أجزأه،اھ(كتاب الزكاة،شروط أداء الزكاة،ج: 2،ص: 228،مط: دارالکتاب الاسلامی)
و فی الفتاوی الھندیة: إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز،اھ(كتاب الزكاة،الباب الأول في تفسير الزكاة،ج: 1،ص: 171،مط: دارالفکر)