زکوۃ و نصاب زکوۃ

ہیرے،زیورات اور بغیر سلے ہوئے کپڑوں پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
93222
| تاریخ :
2010-08-21
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

ہیرے،زیورات اور بغیر سلے ہوئے کپڑوں پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم ، میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہیرے کے زیورات اور بغیر سلے ہوئے کپڑوں پر زکوٰۃ واجب ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ہیرے کے زیورات اور بغیر سلے ہوئےکپڑے اگر تجارت کی نیت سے خریدےگئے ہوں تو وہ قابل زکوٰۃ اموال شمار ہونگے، چنانچہ اگر وہ بقدر نصاب ہو ں تو قمری سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہوگی، لیکن اگروہ عام استعمال کیلئے خریدےگئے ہوں تو ایسی صورت میں ان پر زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: «لا زكاة في اللآلئ والجواهر) وإن ساوت ألفا اتفاقا (إلا أن تكون للتجارة) والأصل أن ما عدا الحجرين والسوائم إنما يزكى بنية التجارة
وفی الرد تحتہ: «قوله والجواهر) كاللؤلؤ والياقوت والزمرد وأمثالها درر عن الكافي (قوله وإن ساوت ألفا) في نسخة ألوفا (قوله ما عدا الحجرين) هذا علم بالغلبة على الذهب والفضة ط وقوله: والسوائم بالنصب عطفا على الحجرين وما عدا ما ذكر كالجواهر والعقارات والمواشي العلوفة والعبيد والثياب والأمتعة ونحو ذلك من العروض. اھ(اول کتاب الزکوٰۃ،ج:2،ص:273، ط:سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93222کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات