بچوں کے مسائل

ڈی این اے سے نسب ثابت کیوں نہیں ہوتا؟

فتوی نمبر :
93122
| تاریخ :
2026-03-10
معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / بچوں کے مسائل

ڈی این اے سے نسب ثابت کیوں نہیں ہوتا؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک بندہ جس کی شادی اٹھ فروری 2025 کو ہوئی اور بیوی سے پہلی مرتبہ ملاپ 25 فروری 2025 کو ہوا اور ایک مرتبہ کے علاوہ شوہر بیوی سے وطی کا انکار کرتا ہے جبکہ بیوی اقرار کرتی ہے اور شادی کے پانچ دن کے بعد 13 فروری کا بتا رہی ہے (وطی کا دن) پھر وطی کے کچھ دنوں بعد الٹرا ساؤنڈ ہوتا ہے بیوی کا جس میں بچے کی عمر یعنی علوق کی تاریخ شادی سے 15 یا 18 دن پہلے کی بتا رہی ہے اور پھر اسی طرح مختلف رپورٹس الٹراساؤنڈ کی جاتی ہے تو اس میں بھی یہی تاریخ بتائی جاتی علوق کی جو شادی سے پہلے کی ہے تقریبا تین رپورٹس اس امر پر متفق ہیں کہ یہ بچہ قبل از نکاح کے ٹھہرا اور دیگر مختلف رپورٹس وہ اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ بچہ بعض ازنکاح قبل از جماع کے ٹہرا بقول شوہر یعنی 7 فروری اور 11 فروری کو ،اب یہ مختلف رپورٹس ڈاکٹروں کے سامنے پیش کیے گئے کہ ایا اس مختلف رپورٹس میں کس کا اعتبار کیا جائے کیونکہ اس کا ثبوت نسب وغیرہ سے تعلق ہے اور شوہر ان مختلف رپورٹس کی تفصیل میں متحیر ہے تو ایا اس امر کی بنیاد پر شوہر کے لیے ان مختلف رپورٹس کے حل کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروانا جائز ہے صرف ذاتی تسلی کے لیے حالانکہ مختلف ٹیسٹ کروانا بہترین حل ہے حالانکہ بچہ تقریبا شادی کے ساڑھے سات مہینے کے بعد پیدا ہوا ہے، اور اس ڈی این اے کو ثبوت نسب کے لیے یا پھر انکار کے لیے بطور دلیل یا قرینہ اور شاہد کے مان سکتے ہیں? اب اگر شرعاً اس ڈی این اے پر فیصلہ کیا جائے گا تو رپورٹ منفی آنے کی صورت میں شرعا نکاح کا حکم کیا ہوگا اور نکاح ختم ہونے کی صورت میں مہر بیوی کا حق ہوگا یا نہیں? اور اگر ڈی این اے شرعا ثبوت نسب کے لیے کافی نہیں تو پھر شوہر کی اس انکار کے بعد شرعا کیا فیصلہ کیا جائے گا، تفصیل سے آگاہ فرمائیے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ڈی این اے ٹیسٹ ایک انسانی عمل اور مشینی کارکردگی کانتیجہ ہے، جس میں غلطی کا امکان ہے،اسی لئے جب تک شرعی گواہی یا مجرم کی طرف سے اقرار نہ ہو تو محض ڈی این اے کی بنیاد پر نسب سے انکار کرنا شرعاً جائز نہیں۔ کیونکہ اسکی رپورٹ میں غلطی یا تبدیلی بھی ناممکن نہیں ، تاہم زیادہ سے زیادہ اس کی حیثیت ایک قرینہ اور علامت کی ہے، اگر اسکی وجہ سے ملزم جرم کا اقرار کر لیتاہے، تو اقرار کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاسکتاہے ۔ذیل میں ڈی این اے کی طبی اور شرعی حیثیت تفصیل سے واضح کی جاتی ہے جس سے شرعی حکم سمجھنا آسان ہوگا۔
طبی نقطۂ نظر:
ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج ظنی (Probabilistic) ہوتے ہیں اور تحقیق کے مطابق ان میں انسانی و تکنیکی غلطی کا امکان موجود رہتا ہے۔چنانچہ ماہرِ طب اور محقق "ولیم سی تھامسن"(William C. Thompson) اور دوسرے ماہرین کی سائنسی ایک تحقیق: ( How the probability of a false positive affects the value of DNA evidence (مطبوعہ: Journal of Forensic Sciences ، Vol. 48 ، 2003ء) میں یہ صراحت موجود ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کو محض اتفاقیہ مماثلت (Random Match Probability) کی بنیاد پر قطعی نہیں مانا جاسکتا،کیونکہ کئی کیسز میں نمونوں کی تبدیلی (Sample switch) یا لیبارٹری میں نمونوں کے باہمی اختلاط (Cross-contamination) کی وجہ سے غلط نتائج جاری ہوئے۔ مثال کے طور پر دو مشہور لیبارٹریوں"سیلمارک ڈائیگناسٹک"(Cellmark Diagnostics) اور "فلاڈیلفیا سٹی کرائم لیب" (the Philadelphia City Crime Laboratory) نے اعتراف کیا کہ ان سے نمونوں کی تبدیلی کی وجہ سے غلط رپورٹ جاری کی گئی تھی جس کے نتیجہ میں ایک بے گناہ شخص پر الزام لگایا گیا کہ اس کا ڈی این اے متاثرہ خاتون کے جسم کے نمونہ سے میل کھاتاہے،بعد میں انکشاف ہوا کہ وہ نمونہ در اصل متاثرہ خاتون کا اپنا ہی پروفائل تھا۔(دیکھئے عبارت نمبر :1)
اس طرح '(Adversarial Scrutiny of Evidentiary Statistical Software) مطبوعہ arXiv، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے)کی تحقیق میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ: "ڈی این اے ٹیسٹ یا کسی بھی سافٹ ویئر کے نتائج کو آخری اور حتمی سچ نہیں مانا جا سکتا،کیونکہ ان میں انسانی اور تکنیکی غلطی کا امکان رہتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی باریکی سے جانچ پڑتال (Adversarial Scrutiny) ضروری ہے"۔(دیکھئے عبارت نمبر :2)
یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی عدالتوں میں رائج ڈا برٹ سٹینڈرڈ (Daubert Standard) ججوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی بھی سائنسی شہادت کو قبول کرتے وقت لازمی اس بات کو مدِ نظر رکھیں کہ اس میں غلطی کا امکان" (Potential Rate of Error) کتنا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قانون بھی اسے سو فیصد خطا سے پاک نہیں مانتا۔(دیکھئے عبارت نمبر :3)
خلاصہ یہ کہ: ڈی این اے نتائج مشینی و انسانی غلطی کے احتمال کی بنا پر قطعی نہیں،بلکہ محض ظنی (Probabilistic) حیثیت رکھتے ہیں، اسی لیے جدید قانون اور طب بھی انہیں خطا سے پاک اور سو فیصد حتمی تسلیم نہیں کرتے۔
شرعی نقطۂ نظر:
طبی تحقیق سے یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کو یقینی اور قطعی دلیل کا درجہ حاصل نہیں۔ اسی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے 'مجمع الفقہ الاسلامی الدولي' (جدہ) نے اپنی قرار داد (نمبر 16/7) میں اس کی شرعی حیثیت متعین کی ہے۔وہ یہ کہ ڈی این اے (البصمة الوراثية) اگر مختلف لیبارٹریوں سے لیا جائے تو حدود وقصاص کے علاوہ فوجداری تحقیقات میں اسے بطورِ ذریعۂ اثبات استعمال کرنے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں ۔چنانچہ نسب ثابت کرنے کے مندرجہ ذیل حالات میں اس سے مدد لی جاسکتی ہے:
(ا): مجہول النسب سے متعلق تنازع کی صورت میں۔
(2): ہسپتالوں اور نومولود بچوں کے مراکز میں مشتبہ پیدائش کے معاملات میں۔
(3): حوادث و آفات میں بچوں کے کھوجانے میں جبکہ انکی شناخت ممکن نہ ہو۔
(4): جنگوں یا دیگر وجوہات کی وجہ سے ملی ہوئی لاشیں جب ناقابلِ شناخت ہوں۔
تاہم جن معاملات میں نسب شرعاً ثابت شدہ ہو،وہاں ڈی این اے پر اعتماد کرتے ہوئے نسب سے انکار کرنا شرعاً جائز نہیں۔ (قرارات مجمع الفقه الإسلامي الدولي، الدورة السادسة عشرة، القرار السابع، ص: 389، الإصدار الثالث)
مجمع الفقہ الاسلامی کی مذکورہ بالا قرار داد میں جن صورتوں کا ذکر ہے، ان میں مشترک بات یہ ہے کہ وہاں پہلے سے کوئی شرعی نسب (فراش) موجود نہیں ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ڈی این اے ایک ایسا قرینہ ہے جسے مجہول النسب وغیرہ مخصوص صورتوں میں شناخت کی تصدیق کےلئے تو استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن شرعاً ثابت شدہ نسب کی نفی کے لیے اسے دلیل (Evidence)کے طور پر نہیں مانا جاسکتا۔نیز فقہاء کرام رحمہم اللہ کا مسلمہ ضابطہ ہے کہ جس بچے کی ولادت نکاح کے چھ ماہ بعد ہوجائے تو وہ شوہر سے ہی ثابت النسب ہوگا،الا یہ کہ شوہر بچے کے ثبوت النسب سے انکار کردے،تو اس کے بعد بذریعۂ عدالت لعان کے بعد شوہر اس بچے کے نسب سے بری ہوگا۔
اس تمہید کے بعد سائل کے سوال کا جواب یہ ہے کہ صورت مسئولہ میں جب بجے کی ماں مذکور شخص کے نکاح میں ہے،اور ساڑھے سات مہینہے کے بعد بچہ پیدا ہوا ہے،تو اس لڑکے کا نسب مذکور شخص سے ثابت ہے،اور شخص مذکور ہی اس کا والد ہے۔لہٰذا نکاح ورخصتی کے بعد محض ڈی این اے یا الٹراساؤنڈ رپورٹ کے ذریعے بچے کے ثبوتِ نسب سے انکار کرنا جائز نہیں۔البتہ اگر شوہر کے دل میں شبہات ہیں اور وہ بچے کے نسب کا انکار کررہا ہے، تو اس کو چاہئے کہ بیوی پر تہمت لگاتے ہوئے محض الزام تراشی کرنے کی بجائے باقاعدہ شرعی طریقہ کار کے مطابق لعان والے طریقے پر عمل کرے،بصورتِ دیگر خواہ مخواہ عورت کی عزت اچھالنے اور اسے لوگوں کے درمیان رُسوا کرنے سے اجتناب لازم ہے۔تاہم اگر شوہر لعان بھی نہیں کرتا اور الزام لگانے سے بھی باز نہیں آتا،تو عورت اس کے خلاف حدِ قذف(تہمت لگانے کی سزا) کےلئے عدالت سے رجوع کرنے کی بھی مجاز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی صحیح البخاری: قال ابن شهاب: قالت عائشة: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (‌الولد ‌للفراش وللعاهر الحجر).(ج:4،رقم 4052،ناشر:دارالیمامۃ)
وفی ردالمحتار:تحت (قوله: على أربع مراتب) ؛ ضعيف: وهو فراش الأمة لا يثبت النسب فيه إلا بالدعوة.ومتوسط: وهو فراش أم الولد، فإنه يثبت فيه بلا دعوة، لكنه ينتفي بالنفي.وقوي: وهو فراش المنكوحة ومعتدة الرجعي فإنه فيه لا ينتفي إلا باللعان اھ(فصل فی ثبوت النسب،ج:3،ص:550،ناشر:سعید)
وفی الھندیۃ: قال أصحابنا: لثبوت النسب ثلاث مراتب (الأولى) النكاح الصحيح وما هو في معناه من النكاح الفاسد: والحكم فيه أنه يثبت النسب من غير عودة ولا ينتفي بمجرد النفي وإنما ينتفي باللعان، فإن كانا ممن لا لعان بينهما لا ينتفي نسب الولد كذا في المحيط اھ (الفصل الخامس عشر فی ثبوت النسب، ج:1، ص:536 ، ناشر: ماجدیہ)
وفی الھدایۃ: وإذا تزوج الرجل امرأة فجاءت بولد لأقل من ستة أشهر منذ يوم تزوجها لم يثبت نسبه" لأن العلوق سابق على النكاح فلا يكون منه(باب ثبوت النسب،ج:2،ص:281،ناشر:بیروت)
قرارات المجمع الفقه الاسلامي :
وبناء على ما سبق قرر ما يأتي : أولاً: لا مانع شرعاً من الاعتماد على البصمة الوراثية في التحقيق الجنائي، واعتبارها وسيلة إثبات في الجرائم التي ليس فيها حد شرعي ولا قصاص؛ لخبر ادرؤوا الحدود بالشبهات)، .. ثانياً: إن استعمال البصمة الوراثية في مجال النسب لابد أن يحاط بمنتهى الحذر والحيطة والسرية، ولذلك لابد أن تقدم النصوص والقواعد الشرعية على البصمة الوراثية. ثالثاً: لا يجوز شرعاً الاعتماد على البصمة الوراثية في نفي النسب، ولا يجوز تقديمها على اللعان. رابعاً: لا يجوز استخدام البصمة الوراثية بقصد التأكد من صحة الأنساب الثابتة شرعاً، ويجب على الجهات المختصة منعه وفرض العقوبات الزاجرة؛ لأن في ذلك المنع حماية لأعراض الناس وصوناً لأنسابهم. خامساً: يجوز الاعتماد على البصمة الوراثية في مجال إثبات النسب في الحالات الآتية : (أ) حالات التنازع على مجهول النسب بمختلف صور التنازع التي ذكرها الفقهاء، (ب) :حالات الاشتباه في المواليد في المستشفيات ومراكز رعاية الأطفال ونحوها، وكذا الاشتباه في أطفال الأنابيب. (ج ) حالات ضياع الأطفال واختلاطهم، بسبب الحوادث أو الكوارث أو الحروب، وتعذر معرفة أهلهم، أو وجود جثث لم يمكن التعرف على هويتها، ...( الدوره السادسه عشره ، القرار السابع بشان البصمه الوراثيه ومجالات الاستفاده منها . ص: 389 . ط: الإصدار الثالث)
(عبارت نمبر 1)
False positives have occurred in proficiency tests (2,3,11,13,16) and in actual cases (14,17). For example, the Philadelphia City Crime Laboratory recently admitted that it had accidentally switched the reference samples of the defendant and victim in a rape case. The error led the laboratory to issue a report that mistak-enly stated that the defendant was a potential contributor of what the analysts took to be “seminal stains” on the victim’s clothing (18….In 1995, Cellmark Diagnostics admitted that a similar sample-switch error had caused it to report, incorrectly,
( How the probability of a false positive affects the value of DNA evidence)
(عبارت نمبر 2)
The U.S. criminal legal system increasingly relies on software output to convict and incarcerate people. In a large number of cases each year, the government makes these consequential decisions based on evidence from statistical software—such as probabilistic genotyping, environmental audio detection, and toolmark analysis tools—that defense counsel cannot fully cross-examine or scrutinize. This undermines the commitments of the adversarial criminal legal system, which relies on the defense’s ability to probe and test the prosecution’s case to safeguard individual rights. Responding to this need to adversarially scrutinize output from such software,
(Adversarial Scrutiny of Evidentiary Statistical Software – arXiv)
عبارت نمبر 3
factors are described in this decision in helping the judge determine whether there is a
scientifically valid and reliable foundation for the evidence. These include: ...(3) the court should consider the
known or potential rate of error with the theory or technique,
(Advanced Topics - in Forensic DNA Typing - National Institute of Standards and Technology)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عرفان اللہ حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93122کی تصدیق کریں
0     34
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • بچے کے کان میں اذان و اقامت کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   بچوں کے مسائل 1
  • نومولود کے کان میں اذان دینے کا مسنون طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   بچوں کے مسائل 1
  • داڑھی منڈے شخص کا بچہ کے کان میں اذان و اقامت کہنا

    یونیکوڈ   اسکین   بچوں کے مسائل 0
  • مخنث (Shemail) بچے کی پرورش وتربیت کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   بچوں کے مسائل 1
  • بچہ کی پیدائش کے بعد سنت اعمال

    یونیکوڈ   اسکین   بچوں کے مسائل 0
  • اولاد کو نیک سیرت بنانے کے لئے کیا تربیت کریں

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • پیدا ہوکر مر جانے والے بچے والدین کو جنت لے کر جائیں گے

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • بچہ کی ولادت کے بعدکان میں اذان دینے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • ناشزہ بیوی اور اپنے چھوٹے بچوں کے اخراجات کس کے ذمہ لازم ہونگے؟

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • بچہ نہانے کے رسم اور اس میں ہونے والے بچہ اور ماں کو تحفہ تحائف دینا

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • نومولود بچہ کے کان میں اذان کیوں دی جاتی ہے؟

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • طلاق کے بعد کیا بیوی اولاد کو والد کی ملاقات سے منع کر سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • لڑکے اور لڑکی کے بالغ ہونے کی آخری حد

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • بچی کس عمر تک اپنے محرم کے ساتھ سو سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • علیحدگی ہوجانے کے بعد باپ کو بچوں سے نہ ملنے دینا

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • بچوں کے نام رکھنے کے لئے "چھٹی "کے رسم کا حکم

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • طلاق کے بعد بچہ کو والد سے ملنے نہ دینا

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 1
  • اپنی بیٹی کے رشتے میں والدین(لڑکی کے دادا دادی) کا مداخلت کرنا

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • نومولود کو چھوڑ کر جانے والےوالد کے بچہ کی ولدیت میں کس کا نام لکھا جائے؟

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • والد کا معذور بچہ کی دیکھ بھال اور ذمہ داری نہ اٹھانا

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • والدین کا اپنی اولاد کے ساتھ برا برتاؤ کرنا

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
  • ڈی این اے سے نسب ثابت کیوں نہیں ہوتا؟

    یونیکوڈ   بچوں کے مسائل 0
Related Topics متعلقه موضوعات