کیا فرماتے ہیں حضرات علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں : نکاح کی کارروائی کے دوران نکاح نامہ کے تمام کو ائف (Columns) پر کیے گئے۔ اس میں تفویض طلاق کے خانے میں شوہر کی مکمل رضامندی سے درج ذیل شرط درج کی گئی :
"زوجہ کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ جب تک وہ میرے رشتہ نکاح میں ہے، اپنے والد یا بھائی کی رضا مندی و مشورے سے اپنے او پر طلاق واقع کر سکتی ہے۔"
کلیدی نکتہ : قابل ذکر بات یہ ہے کہ عقد نکاح کے وقت زبانی ایجاب و قبول میں اس شرط کا تذکرہ نہیں کیا گیا تھا، بلکہ یہ محض نکاح نامہ کی تحریر میں شامل تھی۔ تاہم، ایجاب و قبول کی شرعی تکمیل کے فوراً بعد ، شوہر اور زوجہ نے اس دستاویز پر اپنے دستخط ثبت کیے اور گواہان نے بھی اس کی تصدیق کی۔
سوالات:
1. کیا ایجاب و قبول کے دوران زبانی ذکر نہ ہونے کے باوجود ، نکاح نامہ میں شوہر کی رضا سے لکھی گئی یہ تفویض طلاق اور اس پر فریقین کے دستخط اسے شرعا نافذ (Valid) کر دیتے ہیں؟
2. کیا اس تفویض کردہ اختیار کی بنیاد پر زوجہ کا خود پر طلاق واقع کر ناشر عی طور پر معتبر مانا جائے گا؟ جب وہ چاہے ۔
3. اس صورت میں واقع ہونے والی طلاق کی شرعی نوعیت کیا ہو گی ؟ کیا اسے طلاق بائن شمار کیا جائے گا؟
4. کیا شرعی طور پر یہ ضروری ہے کہ اس شرط کا ذکر عین ایجاب و قبول کے وقت لڑکی کی جانب سے ہو، یا مذکورہ بالا صورت (جس میں زبانی ذکر نہیں ہوا مگر تحریری طور پر دستخط ہوئے) بھی شر عادرست اور معتبر ہو گا۔و السلام۔
واضح ہو کہ اگر عقد نکاح کے وقت زبانی ایجاب وقبول کے دوران تفویض طلاق کى شرط ذکر نہ کى جائے، بلکہ ایجاب و قبول کے بعد شوہر کی رضامندی سے کابین نامہ میں طلاق كا حق عورت كو تفوىض كر دىا جائے، تو ىہ تفوىض بھی شرعا ًمعتبر ہوگی، لہذا سوال میں ذکر کردہ تفویض طلاق کے الفاظ اگر نکاح نامہ میں درج الفاظ کے مطابق ہوں، تو ان الفاظ کے ذریعہ دیا جانے والا اختیار چونکہ اسی مجلس تک محدود نہیں ہے،اس لیےوه عورت جب تک اس شوہر کے نکاح میں رہے تو اپنے بھائی وغیرہ کی مشاورت سے اپنے اوپر طلاق واقع کر سکتی ہے، لیکن یہ اختیار دیتے وقت جو الفاظ "طلاق واقع کر سکتی ہے" كہے گئے ہىں وه الفاظ طلاق کے باب میں صرىح ہیں، اس لیے عورت کو ایک طلاق رجعى اپنے اوپر واقع کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، جب کبھی وہ ىہ اختیار استعمال کرے گی، ایک طلاق رجعی اس پر واقع ہو کر شوہر کو دوران عدت رجوع کا اختیار حاصل ہوگا، البتہ ان الفاظ کا اقرار کرتے ہوئے اگر شوہر تین طلاق کا اختیار سپرد کرنے کی نیت کرے تو اىسی صورت میں پھر عورت کو اپنے اوپر تین طلاقیں واقع کرنے کا بھی اختیار حاصل ہو جائے گا۔
كما في رد المحتار: ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها اهـ [كتاب الطلاق، مطلب اعتبار عدد الطلاق بالنساء، ج:3 ص:247 ط: سعيد]
وفي الدر المختار: (قال لها طلقي نفسك ولم ينو أو نوى واحدة) أو ثنتين في الحرة (فطلقت وقعت رجعية، وإن طلقت ثلاثا ونواه وقعن) (إلى قوله) وتقيد بالمجلس) لأنه تمليك (إلا إذا زاد متى شئت) ونحوه مما يفيد عموم الوقت فتطلق مطلقا اهــ
وفي رد المحتار تحت قوله: (وقعن) أي الثلاث سواء أوقعتها بلفظ واحد أو متفرقا، وإنما صح إرادة الثلاث لأن قوله طلقي نفسك معناه افعلي التطليق؛ فهو مذكور لغة لأنه جزء معنى اللفظ فصح نية العموم، غير أن العموم في حق الأمة ثنتان وفي حق الحرة ثلاث فتح، وقوله أو متفرقا يدل على أنه لو نوى الثلاث فطلقت واحدة أو ثنتين وقع، ويأتي التصريح بوقوع الواحدة في طلقي نفسك ثلاثا فطلقت واحدة ويأتي تمامه اهـ [كتاب الطلاق، باب تفويض الطلاق، فصل في المشيئة، ج:3 ص:331، 332 ط: سعيد]
وفي رد المحتار: وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، (إلى قوله) فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] أي لا تطلبوا الفراق، وعليه حديث «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» قال في الفتح: ويحمل لفظ المباح على ما أبيح في بعض الأوقات أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة اهـ. [كتاب الطلاق، ج:3 ص:228 ط: سعيد]
وفي الدر المختار: [فروع] نكحها على أن أمرها بيدها صح اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (صح) مقيد بما إذا ابتدأت المرأة فقالت زوجت نفسي منك على أن أمري بيدي أطلق نفسي كلما أريد أو على أني طالق فقال الزوج قبلت، أما لو بدأ الزوج لا تطلق ولا يصح الأمر بيدها كما في البحر عن الخلاصة والبزازية. [كتاب الطلاق، باب الأمر باليد، ج:3 ص:329 ط: سعيد]