زکوۃ و نصاب زکوۃ

سونا قرض دینے کی وجہ سے زکوۃ واجب ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
92960
| تاریخ :
2026-03-05
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

سونا قرض دینے کی وجہ سے زکوۃ واجب ہونے کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
گھر والوں کے پاس قریبا پانچ تولے سونا ہے ( صرف سونا ہے، چاندی یا نقدی، کچھ بھی نہیں ہے) اسمیں سے انہوں نے ایک تولہ سونا اپنے بھائی کو قرض دیا اور طے یہ ہوا کہ قرض واپس کرتے وقت وہ اسکی قیمت ادا کرے گا (وہ قیمت جو قرض لیتے وقت اس سونے کی تھی)۔ ابھی قرض واپس نہیں کیا، فی الحال صرف چار تولے سونا ہے تو کیا اب اس صورت میں گھر والوں پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں قرض کی رقم اور چار تولہ سونے کی مجموعی قیمت فی زماننا چاندی کے نصاب ( یعنی ساڑھے باؤن تولہ چاندی کی قیمت ) کو پہنچ جاتی ہے، اس لیے اس مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد بطور زکوۃ نکالنا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار:(وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة) وقالا بالإجزاء الخ(باب زکوۃ المال،ج:2،ص:303،مط:ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً:واعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم الخ(باب زکوۃ المال،ج:2،ص:305،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الھندیۃ:وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز الخ(الفصل الأول في زكاة الذهب والفضة،ج:1،ص:179،مط:مکتبہ ماجدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92960کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات