ایک آدمی روزہ جماع سے توڑ دے اور اس کو یاد ہو کہ میرا روزہ ہے تو اس بندے پر کیا کفارہ واجب ہوگا؟ اور کفارہ میں کتنی آپشنز ہے؟ اور میاں بیوی دونو ں پر الگ الگ کفارہ ہوگا یا نہیں ؟
واضح ہو کہ روزے کی حالت میں روزہ یاد ہونے کے باوجود قصداً بیوی کیساتھ جماع کرنے سے اس دن کی قضاء اور کفارہ دونوں واجب ہو ں گے اور اگر بیوی بھی روزہ رکھنے کے باوجود جماع پر راضی تھی تو میاں بیوی دونوں پر قضاء اور علیحدہ علیحدہ کفارہ لازم ہوگا، کفارے میں ایسے شخص پر مسلسل ساٹھ روزے رکھنا ضروری ہے اگر درمیان میں ایک روزہ بھی رہ جائے تو ازسر نو روزے رکھنے لازم ہوں گے،اگر اس کی قدرت نہ ہو ،تو ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی مقدار غلہ یا اس کی قیمت دینا لازم ہوگا،ایک صدقہ فطر کی مقدار نصف صاع پونے دو کلو احتیاطاً دو کلو گندم یا اس کی قیمت ہے ۔
کما فی مسند أحمد: عن أبي هريرة، أن رجلا (2) أتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: هلكت. قال: " وما أهلكك؟ " قال: وقعت على امرأتي في رمضان. فقال: " أتجد رقبة؟ " قال: لا. قال: " تستطيع (3) أن تصوم شهرين متتابعين؟ " قال: لا. قال: " تستطيع تطعم ستين مسكينا الخ،اھ (ج: 12،ص: 237،رقم الحدیث: 7290،مط: مؤسسۃ الرسالۃ)
وفی الھندیه: من جامع عمداً في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولايشترط الإنزال في المحلين، كذا في الهداية. وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعةً، وإن كانت مكرهةً فعليها القضاء دون الكفارة، اھ (كتاب الصوم وفيه سبعة أبواب،النوع الثاني ما يوجب القضاء والكفارۃ،ج: 1،ص: 205،مط: دار الفکر بیروت)
و فی فتح القدیر: (ومن جامع في أحد السبيلين عامدا فعليه القضاء) استدراكا للمصلحة الفائتة (والكفارة) لتكامل الجناية ولا يشترط الإنزال في المحلين اعتبارا بالاغتسال، وهذا لأن قضاء الشهوة يتحقق دونه وإنما ذلك شبع، اھ (باب ما يوجب القضاء والكفارة،ج: 2،ص: 337،مط: دار الفکر بیروت)
و فیہ ایضاً: ثم قال (والكفارة مثل كفارة الظهار) لما روينا، ولحديث «الأعرابي فإنه قال: يا رسول الله هلكت وأهلكت. فقال: ماذا صنعت. قال: واقعت امرأتي في نهار رمضان متعمدا، فقال صلى الله عليه وسلم: أعتق رقبة. فقال: لا أملك إلا رقبتي هذه، فقال: صم شهرين متتابعين. فقال: وهل جاءني ما جاءني إلا من الصوم فقال: أطعم ستين مسكينا.الخ،اھ (باب ما يوجب القضاء والكفارة،ج: 2،ص: 340، مط: دار الفکر بیروت)