زکوۃ و نصاب زکوۃ

غیر رہائشی مدرسہ زکوۃ لے سکتاہے یا نہیں؟

فتوی نمبر :
92710
| تاریخ :
2026-02-26
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

غیر رہائشی مدرسہ زکوۃ لے سکتاہے یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں: میرا ایک مدرسہ ہے گنجان آباد علاقہ لاسی گوٹھ میں۔ مدرسہ میرا کرائے پر ہے، یہاں اکثر بچے یتیم اور مسکین بھی ہیں۔ مدرسہ غیر رہائشی ہے، کچھ بچے فیس وغیرہ بھی دیتے ہیں جو یتیم مسکین نہیں ہیں، مگر اس سے نہ مدرسے کا کرایہ پورا ہوتا ہے اور نہ ہی استادوں کی تنخواہ صحیح سے ادا ہو پاتی ہے۔ لہٰذا کیا میں زکوٰۃ، فطرہ لے کر کسی یتیم مسکین بچے سے تملیک کروا کر ادارے میں لگا سکتا ہوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ زکوٰۃ اور صدقۂ فطر کی درست ادائیگی کے لیے کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو مال کا مالک بنانا (تملیک) ضروری ہے۔ لہٰذا مدرسہ کے کرایہ، اساتذہ کی تنخواہوں یا دیگر انتظامی اخراجات میں براہِ راست زکوٰۃ کی رقم صرف کرنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
البتہ اگر کوئی یتیم یا مسکین طالبِ علم شرعاً مستحقِ زکوٰۃ ہو، تو اسے زکوٰۃ یا فطرہ کی رقم کا مالک بنا دیا جائے، اور قبضہ کے بعد وہ اپنی رضامندی سے مذکور رقم مدرسہ کی فیس، رہائش، تعلیم یا دیگر جائز ضروریات میں خرچ کرے، تو یہ صورت جائز ہے۔
البتہ محض رسمی تملیک کی صورت بناتےہوئے پہلے سے طے شدہ طور پر رقم واپس مدرسہ میں لگانے کی شرط نہ لگائی جائے، بلکہ مستحق طالب علم کو حقیقی طور پر مالک بنایا جائے، پھر اس کی رضا مندی سے رقم مدرسہ میں صرف کی جائے، تو اس کی گنجائش ہے۔
اسی طرح اگر داخلہ کے وقت مدرسہ کے ذمہ داران مستحق بالغ طالب علم سےازخوداورنابالغ طالب علم کے شرعی سرپرست سےبطوروکیل زکوٰۃ و صدقات واجبہ وصول کرنے اور وصولى كے بعد مذكور رقم مدرسہ كى ضرورىات (اساتذه كى تنخواہوں وغيره) مىں خرچ كرنے کاوکالت نامہ حاصل کرلیں تو ايسى صورت مىں اداره مىں رقم جمع كرانے كى صورت مىں اصل مالكان كى زكوة بھى ادا ہو جائىگى، اور مدرسہ كى ضروريات بھى احسن طرىقے سے پورى ہوجائىں گى۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) (إلى قوله) لعدم التمليك وهو الركن. وقدمنا لأن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء ألخ (كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، ج: 2، ص: 344-345، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهندية: وكذلك في ‌جميع ‌أبواب ‌البر ‌التي ‌لا ‌يقع ‌بها ‌التمليك كعمارة المساجد وبناء القناطر والرباطات لا يجوز صرف الزكاة إلى هذه الوجوه.(والحيلة أن يتصدق بمقدار زكاته) على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون للمتصدق ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب بناء المسجد والقنطرة. اهـ (كتاب الحيل، الفصل الثالث في مسائل الزكاة، ج: 6، ص: 392)
وفي الدر المختار أيضا: ولو خلط زكاة موكليه ضمن وكان متبرعا إلا إذا وكله الفقراء.إلخ
وفي رد المحتار: (قوله إذا وكله الفقراء) لأنه كلما قبض شيئا ملكوه وصار خالطا مالهم بعضه ببعض ووقع زكاة عن الدافع.اهـ (كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 269، ط: إيج إيم سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92710کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات