زکوۃ و نصاب زکوۃ

غیر رہائشی مدرسہ زکوۃ لے سکتاہے یا نہیں؟

فتوی نمبر :
92700
| تاریخ :
2026-02-26
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

غیر رہائشی مدرسہ زکوۃ لے سکتاہے یا نہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محترم مفتیانِ کرام

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بعد از سلام عرض ہے کہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے زیر انتظام ایک مدرسہ قائم ہے جہاں قرآنِ کریم حفظ کروایا جاتا ہے۔ مدرسہ کے قراء حضرات یونیورسٹی کے سرکاری ملازمین ہیں اور ان کی تنخواہیں یونیورسٹی ادا کرتی ہے۔

مدرسہ میں جامعہ کے پروفیسرز، افسران اور دیگر ملازمین کے بچوں کے علاوہ مستحق اور غریب گھرانوں کے بچے بھی زیرِ تعلیم ہیں۔

واضح رہے کہ مدرسہ میں رہائشی طلبہ نہیں ہیں۔ طلبہ صبح تقریباً 8 بجے آتے ہیں اور سہ پہر 3:30 بجے اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں، اور دوپہر کا کھانا بھی اپنے گھروں سے لا کر کھاتے ہیں۔

جامعہ کو اس وقت مالی مشکلات کا سامنا ہے، اور چونکہ اس مدرسہ سے یونیورسٹی کو فیس کی مد میں کوئی آمدن حاصل نہیں ہوتی، اس لیے مدرسہ کی ضروریات پوری کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ چنانچہ مدرسہ میں مختلف امور درپیش ہیں، مثلاً کلاس رومز کے پردے، کارپیٹ اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی وغیرہ۔

گزشتہ سال مدرسہ میں ایک سولر سسٹم اپنی مدد آپ کے تحت نصب کیا گیا تھا، اور اس وقت خاص طور پر یہ کوشش کی گئی تھی کہ اس میں زکوٰۃ کی رقم شامل نہ ہو، تاہم تقریباً چھ لاکھ روپے جمع کرنے میں خاصی دشواری پیش آئی تھی۔

اب بعض مخیر حضرات زکوٰۃ کی رقم دینے کی پیشکش کرتے ہیں۔

مزید یہ کہ سائل کا اپنا بیٹا بھی اسی مدرسہ میں حفظِ قرآن کر رہا ہے۔

دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ:

کیا اس مدرسہ کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟

کیا زکوٰۃ کی رقم عمومی اخراجات (پردے، کارپیٹ وغیرہ) میں استعمال کی جا سکتی ہے؟

کیا مستحق طلبہ کو زکوٰۃ کا مالک بنا کر پھر ان کی ضروریات پر خرچ کرنا درست ہوگا؟

کیا سائل اپنی زکوٰۃ اس مدرسہ میں دے سکتا ہے جبکہ اس کا بیٹا بھی وہاں زیر تعلیم ہے؟

براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شرعاً زکوۃ درست ادا ہو نے کے لئے کسی مستحق زکوۃ شخص کو زکوۃکی رقم باقاعدہ مالک وقا بض بنا کر دینا لازم ہے لہذا زکوۃ کی رقم مدرسے کے عمومی اخراجات ( پردے کارپیٹ وغیرہ) میں استعمال نہیں کی جاسکتی، البتہ اگر زکوۃ کی رقم کسی مستحق زکوۃ طالب علم کو حوالے کی جائے اور پھر اپنی مرضی سے وہ رقم مذکور اخراجات میں خرچ کرے تو ایسا کرنا شرعاً جائز ہو گا جبکہ مذکور مدرسے میں اگر صحیح مصرف پر زکوۃ کی رقم خرچ کی جاتی ہو تو سائل ے لئے اس مدرسے میں زکوۃ دینا جائز ہو گا ورنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی حاشیۃ ابن العابدین: ‌ويشترط ‌أن ‌يكون ‌الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد ،الخ (ج :2ص: 344 ،باب مصرف الزکاۃ و العشر ،ناشر:سعید)
وفي بحر الرائق : وفي الظهيرية: ‌الأفضل ‌لصاحب ‌المال الظاهر أن يؤدي الزكاة إلى الفقراء بنفسه،الخ (ج:2 ،ص : 240 زکاۃ الحملان والفضلان ، ناشر: الثانیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زکریا الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92700کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات