جناب مفتی صاحب !
کیا سرکاری اسکول میں زیر تعلیم غریب ،یتیم ،مسکین بچے کے تعلیمی اخراجات از قسم وردی ،فیس ،کتابیں ،کاپیوں پر زکوٰۃ ،صدقات جائز ہے یا کہ نہیں ؟
صورت مسؤلہ میں اسکول میں زیر تعلیم بچے اگر بالغ اور مستحق زکوٰۃ ہوں یا نابالغ ہوں اور ان کے والدین مستحق زکوٰۃ ہوں تو ان بچوں یا ان کے والدین کی اجازت سے تعلیمی اخراجات ،فیس وغیرہ پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے ،اسی طرح وردی اور کتابیں وغیرہ بھی زکوٰۃ کی رقم سے خرید کر انہیں مالکانہ طور پر دی جا سکتی ہیں۔
کما فی الفتاوی الھندیه: "ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغى والقنية".(كتاب الزكاة)،الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1،ص:،171 مطبع: دار الفكر)
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: "وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه أو إلى يد من هو نائب عنه، وكذا لو دفع زكاة ماله إلى صبي فقير أو مجنون فقير وقبض له وليه أبوه أو جده أو وصيهما جاز؛ لأن الولي يملك قبض الصدقة عنه."( کتاب الزکاۃ، فصل: رکن الزکاۃ، ج:2،ص:39، ط: دار الکتب العلمیۃ)
وفی الفتاوی الھندیه: وذكر في الفتاوى أن أداء القيمة أفضل من عين المنصوص عليه وعليه الفتوى كذا في الجوهرة النيرة. (كتاب الزكاة،الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج:1 ، ص: 192 ط: دار الفکر)