میں نے ایک جگہ پیسہ انویسٹ کیا ہے، لیکن اس کا جو منافع آتا ہے وہ ہی اس انویسٹ رقم کی زکاۃ سے بھی کم ہے، اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ میری کوئی نوکری نہیں، اب فى الحال اسی انویسٹ شدہ رقم سے گذر بسر ہے، نیز ایسی رقم جو ہے تو قابل زکاۃ، لیکن اس کی واپسی کا ابھی کچھ نہیں پتہ، آیا که ملیں گے يا ڈوب جائیں گے، تو اس رقم کی زکاۃ کا کیا حکم ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں جو رقم سائل نے انویسٹ کر رکھی ہے، اگر وہ مقدارِ نصاب کو پہنچتی ہو اور اس پر سال بھی گزر چکا ہو، تو اس کی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے، خواہ اس سے حاصل ہونے والا منافع کم ہو یا زیادہ، بلکہ اگر منافع زکوٰۃ کی مقدار سے بھی کم ہو، تب بھی كل سرمایہ پر زکوٰۃ واجب ہوگی ۔چنانچہ نفع کی قلت یا سائل کا بے روزگار ہونا زکوٰۃ کے وجوب کو ساقط نہیں کرتا، نىز اگر مذكور رقم كى وصولى سے بالکلیہ مایوسی نہ ہو، بلکہ دونوں احتمال موجود ہوں کہ رقم مل بھی سکتی ہے اور ضائع بھی ہوسکتی ہے، تو ایسی صورت میں زکوٰۃ کی ادائیگی کو وصولی تک مؤخر کیا جاسکتا ہے، لیکن جب رقم وصول ہوجائے تو گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ بھی ادا کرنا واجب ہوگی۔
كما في الدر المختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) (إلى قوله). (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد (إلى قوله) (و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم. وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كثيابه أو تقديرا كدينه.اهـ (كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 259، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (إلى قوله) ويعتبر ما مضى من الحول قبل القبض في الأصح.إلخ
وفي رد المحتار: (قوله: إذا تم نصابا) والمراد إذا بلغ نصابا بنفسه أو بما عنده مما يتم به النصاب (قوله: وحال الحول) أي ولو قبل قبضه في القوي والمتوسط وبعده الضعيف. (إلى قوله) (قوله: ويعتبر ما مضى من الحول) أي في الدين المتوسط؛ لأن الخلاف فيه، أما القوي فلا خلاف فيه لما في المحيط من أنه تجب الزكاة فيه بحول الأصل، لكن لا يلزمه الأداء حتى يقبض منه أربعين درهما. اهـ (باب أموال الزكاة، ج: 2، ص: 305، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهندية: وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى (إلى قوله) ووسط، وهو ما يجب بدلا عن مال ليس للتجارة كعبيد الخدمة وثياب البذلة إذا قبض مائتين زكى لما مضى في رواية الأصل وقوي، وهو ما يجب بدلا عن سلع التجارة إذا قبض أربعين زكى لما مضى كذا في الزاهدي.اهـ (كتاب الزكاة، ج: 1، ص: 175، ط: مكتبة ماجدية)