السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ !محترم جناب ! زکوۃ کے بارے رہنمائی فرمائیں ،میرے پاس مستعمل سونا ۱۵ تولہ ہے، کیا اس پر زکوٰۃ فرض ہے؟اگر فرض ہے تو کتنی ہو گی؟میں نے ۵ تولہ سونا (۲۴ کیرٹ والا) جون ۲۰۲۵ میں خریدا۔ پھر ۵ تولہ جولائی میں اور مزید ۵ تولہ اکتوبر ۲۰۲۵ میں خریدا۔ اس سونے پر ابھی ایک سال مکمل نہیں ہوا، کیا اس پر زکوٰۃ فرض ہےاگر ہے تو کتنی ہے؟
واضح ہو کہ صاحبِ نصاب شخص اگر دورانِ سال سونا، چاندی کے زیورات خرید لے اور وہ زکوٰۃ ادا کرنے کے وقت تک اس کی ملکیت میں رہیں تو ایسی صورت میں اگرچہ ان زیورات پر الگ سے مستقل سال نہ بھی گزرا ہو، تب بھی زکوٰۃ کی تاریخ میں دیگر اموال کے ساتھ ان زیورات کی زکوٰۃ کی ادائیگی بھی لازم اور ضروری ہوگی، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل اگرپہلےسے صاحبِ نصاب تھا اور اس کے اموال پر سال گزرنے سے کچھ دن قبل ہی کچھ سونا اس کی ملکیت میں آ چکا ہو، تو سائل پر اس سونے کی زکوٰۃ بھی دینی لازم ہوگی، اس پر الگ سے سال گزرنا شرط نہیں۔ لیکن اگر سائل جون ۲۰۲۵ میں پہلی بار نصاب کا مالک بنا ہے تو اگلے سال اسی قمری تاریخ کو اگر سائل کی ملکیت میں بقدر نصاب اموال زکوٰۃ (سونا ،چاندی،مال تجارت اورنقدی) موجود ہو تو ٹوٹل مال کا ڈھائی فیصد بطور زکوٰۃ دینا سائل پر لازم ہوگا۔
كما في الهندية:ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك، ولو كان من غير جنسه من كل وجه كالغنم مع الإبل فإنه لا يضم هكذا في الجوهرة النيرة.اھ( الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج:١،ص:١٧٥،ط:ماجديه)
وفي فتح القدير:(قوله فاستفاد في أثناء الحول من جنسه) بميراث أو هبة أو شراء۔اھ(كتاب الزكاة،ج:٣،ص:١٤٨،ط:رشيديه)
وفي البناية:(قال) ش: أي القدوري م: (ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول من جنسه ضمه إليه) ش: أي ضم الذي استفاده إلى النصاب الذي معه م: (وزكاه به) ش: أي زكى الذي استفاده بالنصاب الذي معه والمستفاد على نوعين؛ الأول: أن يكون من جنسه كما إذا كانت له إبل فاستفاد إبلا في أثناء الحول يضم المستفاد إلى الذي عنده فيزكي عن الجميع۔اھ(كيفية زكاة المال المستفاد أثناء الحول،ج:٣،ص:٣٥٣،ط:الكمتبة الغفارية)