1- کیا روزمرہ استعمال ہونے والے سونے کے زیورات پر زکوٰۃ واجب ہے؟ مثال کے طور پر میری والدہ اور اہلیہ جو سونا باقاعدگی سے پہنتی ہیں، کیا انہیں اس سونے پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟
2- ہم Dubai میں کرائے کے گھر میں رہتے ہیں، لیکن میری والدہ کا Pakistan میں ایک فلیٹ ہے جو کرائے پر دیا ہوا ہے۔ کیا زکوٰۃ صرف کرایہ کی آمدنی پر ادا کی جائے گی یا فلیٹ کی مکمل مالیت پر بھی؟
3- میری اہلیہ کا بھی Pakistan میں ایک فلیٹ ہے لیکن ابھی تک ڈویلپر کی طرف سے اس کا قبضہ (پزیشن) نہیں ملا۔ کیا اس پراپرٹی پر زکوٰۃ واجب ہے؟ اگر نہیں، تو کب سے زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہوگا؟
4- اگر میری اہلیہ کے سونے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے لیکن وہ گھریلو خاتون ہیں اور ان کی کوئی آمدنی نہیں، تو کیا بطور شوہر میرے لیے ان کی زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے؟ مزید یہ کہ مجھ پر کریڈٹ کارڈ کا قرض ہے جو سونے کی مالیت سے زیادہ ہے، تو ایسی صورت میں ہماری زکوٰۃ کا کیا حکم ہوگا؟
5- Dubai میں ملازمت ختم ہونے پر اینڈ آف سروس گریجویٹی (End of Service Benefit) ملتی ہے۔ کیا اس رقم پر زکوٰۃ واجب ہے؟ اگر ہاں، تو کیا ملازمت کے دوران ادا کرنی ہوگی یا رقم وصول ہونے کے بعد؟
6- میرے والدین عمر رسیدہ ہیں اور روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ان کے لیے فدیہ کی مقدار کتنی ہوگی؟
7- میری کم عمر بیٹی کو خاندان کے افراد کی طرف سے سونے کے زیورات تحفے میں ملے ہیں۔ کیا اس سونے پر زکوٰۃ واجب ہے؟ اگر ابھی نہیں، تو کب سے واجب ہوگی؟ اگر والدہ بیٹی کے زیورات استعمال کریں تو کیا اس سے زکوٰۃ کے حکم میں کوئی فرق پڑے گا؟ براہِ کرم تفصیل سے رہنمائی فرمائیں۔
،
كما في الدر المختار: (نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) (إلى قوله) (واللازم) مبتدأ (في مضروب كل) منهما (ومعموله ولو تبرا أو حليا مطلقا) مباح الاستعمال أو لا ولو للتجمل والنفقة؛ لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا.اهـ (باب زكاة المال، ج: 2، ص: 295-298، ط: ايج ايم سعيد)
وفيه أيضا: (وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة) إلخ
وفي رد المحتار: (قوله: وقيمة العرض إلخ) تقدم قريبا تقويم العرض إذا بلغ نصابا، وما هنا في بيان ما إذا لم يبلغ. وعنده من الثمنين ما يتم به النصاب.(إلى قوله) (قوله ويضم إلخ) أي عند الاجتماع. أما عند انفراد أحدهما فلا تعتبر القيمة إجماعا بدائع؛ لأن المعتبر وزنه أداء ووجوبا كما مر. وفي البدائع أيضا أن ما ذكر من وجوب الضم إذا لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان أقل، فلو كان كل منها نصابا تاما بدون زيادة لا يجب الضم بل ينبغي أن يؤدي من كل واحد زكاته، فلو ضم حتى يؤدي كله من الذهب أو الفضة فلا بأس به عندنا، ولكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء رواجا وإلا يؤد من كل منهما ربع عشره اهـ (كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج: 2، ص: 303، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) إلخ
وفي رد المحتار: (قوله: إذا تم نصابا) والمراد إذا بلغ نصابا بنفسه أو بما عنده مما يتم به النصاب (قوله: وحال الحول) أي ولو قبل قبضه في القوي والمتوسط وبعده الضعيف.اهـ (باب أموال الزكاة، ج: 2، ص: 305، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهندية: وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ضعيف، وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلا عن شيء نحو الميراث أو بفعله لا بدلا عن شيء كالوصية أو بفعله بدلا عما ليس بمال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة لا زكاة فيه عنده حتى يقبض نصابا ويحول عليه الحول. (كتاب الزكاة، ج: 1، ص: 175، ط: مكتبة ماجدية)
وفي الهندية: (ومنها: كبر السن) فالشيخ الفاني الذي لا يقدر على الصيام يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا كما يطعم في الكفارة كذا في الهداية. والعجوز مثله كذا في السراج الوهاج. وهو الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت كذا في البحر الرائق. (إلى قوله) ولو قدر على الصيام بعد ما فدى بطل حكم الفداء الذي فداه حتى يجب عليه الصوم هكذا في النهاية. (كتاب الزكاة، الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار، ج: 1، ص: 207، ط: مكتبة ماجدية) وفي الدر المختار: (وشرط افتراضها عقل وبلوغ وإسلام وحرية) (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك.اهـ
وفي رد المحتار: (قوله عقل وبلوغ) فلا تجب على مجنون وصبي لأنها عبادة محضة وليسا مخاطبين بها.اهـ (كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 258-259، ط: إيج إيم سعيد)