میرے پروویڈنٹ فنڈ کی کل رقم 40 لاکھ روپے ہے، جس میں سے میں نے 10 لاکھ روپے بطور قرض (لون) لے رکھے ہیں۔ جب رمضان آیا تو میں نے اپنی زکوٰۃ کی حساب کتاب میں نقد رقم، بینک بیلنس، قابل وصول رقوم وغیرہ شامل کیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اس قرض ( پروویڈنٹ فنڈ لون) کی رقم کو زکوٰۃ کے حساب میں سے منہا / ایڈجسٹ کر سکتا ہوں یا نہیں؟""
سائل نے پراویڈنٹ فنڈ کی جمع شدہ رقم سے جو رقم ابھی تک وصول نہیں کی اس کی زکوٰۃ تو سائل کے ذمہ لازم نہیں، البتہ اس رقم میں سے جتنی رقم سائل وصول کرچکاہے، ( اگرچہ وہ رقم سائل نے قرض کے نام سے وصول کرلی ہو)لیکن چونکہ وہ سائل ہی کی رقم ہے اس لیئے اس وصول شدہ رقم کو زکوٰۃ کے حساب سے منہا کرنا درست نہیں، بلکہ پراویڈنٹ فنڈ کی وصول شدہ رقم میں جتنی رقم زکوٰۃ کی تاریخ میں سائل کہ پاس موجود ہوگی، اس کی زکوٰۃ دینا سائل کے ذمہ لازم ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، الی قولہ (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) ( کتاب الزکوٰۃ، ج: 2، ص: 259، ط: سعید)
وفی الھندیہ: (ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة، وسواء كان الدين من النقود أو المكيل أو الموزون أو الثياب أو الحيوان وجب بخلع أو صلح عن دم عمد، وهو حال أو مؤجل أو لله تعالى كدين الزكاة اھ( الباب الاول فی تفسیر الزکوٰۃ، ج: 1، ص: 172، ط: ماجدیہ)
وفی بدائع الصنائع: وجملة الكلام في الديون أنها على ثلاث مراتب في قول أبي حنيفة: دين قوي، ودين ضعيف، ودين وسط كذا قال عامة مشايخنا أما القوي فهو الذي وجب بدلا عن مال التجارة كثمن عرض التجارة من ثياب التجارة، وعبيد التجارة، أو غلة مال التجارة ولا خلاف في وجوب الزكاة فيه إلا أنه لا يخاطب بأداء شيء من زكاة ما مضى ما لم يقبض أربعين درهما، فكلما قبض أربعين درهما أدى درهما واحدا،وعند أبي يوسف ومحمد كلما قبض شيئا يؤدي زكاته قل المقبوض أو كثر،وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث، أو بصنعه كما لوصية، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن القصاص، وبدل الكتابة ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض، وأما الدين الوسط فما وجب له بدلا عن مال ليس للتجارة كثمن عبد الخدمة، وثمن ثياب البذلة والمهنة اھ ( کتاب الزکوٰۃ،فصل الشرائط التی ترجع الی المال، ج: 2، ص: 10، ط: سعید)