السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا سوال یہ ہے کہ کیا پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ دینا ضروری ہے؟ جبکہ وہ رقم نہ تو ہمارے ذاتی اکاؤنٹ میں ہوتی ہے اور نہ ہی ہماری جیب میں، بلکہ کمپنی کے اکاؤنٹ میں ہوتی ہے۔ لیکن اگر ہم کسی معقول وجہ سے درخواست کریں تو کمپنی اپنی مرضی سے ہمیں مکمل پراویڈنٹ فنڈ ادا کر سکتی ہے یا اس میں سے کچھ رقم قرض کی صورت میں دے سکتی ہے، اس صورت میں کیا زکوٰۃ واجب ہوگی؟
واضح ہوکہ حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین اور افسران کو ریٹائرڈ ہونے یا فوت ہونے کی صورت میں مختلف طرح کے فنڈ دیے جاتے ہیں، جیسے پراویڈنٹ فنڈ،بینولنٹ فنڈ،گریجویٹی فنڈ اور جی پی فنڈ وغیرہ ان تمام کے بارے میں اصولی بات یہ ہے کہ جب تک یہ رقم قبضہ میں نہ آجائے،اس وقت تک ان رقوم پر زکوۃ لازم نہیں اور قبضہ میں آنے کے بعد بھی پچھلے سالوں کی زکوۃ لازم نہیں اور مذکوررقم ملنے کے بعد بھی اگر وہ شخص پہلے سے صاحبِ نصاب ہو تو اختتامِ سال پر اس کے پاس جتنی رقم باقی ہو،صرف اس پر زکوۃ لازم ہوگی۔(ازتبویب نمبر77214)
کمافی رد المحتار: قلت: لكن قال في البدائع: إن رواية ابن سماعة أنه لا زكاة فيه حتى يقبض المائتين ويحول الحول من وقت القبض هي الأصح من الروايتين عن أبي حنيفة اهـ ومثله في غاية البيان، عليه فحكمه حكم الدين الضعيف الآتي الخ(کتاب الزکوۃ ج2 ص306 ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ضعيف، وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلا عن شيء نحو الميراث أو بفعله لا بدلا عن شيء كالوصية أو بفعله بدلا عما ليس بمال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة لا زكاة فيه عنده حتى يقبض نصابا ويحول عليه الحول الخ(کتاب الزکوۃ ج1 ص175 ط: ماجدیة)۔