نکاح سے دو دن پہلے لڑکے کے والدین اور بہن، کپڑے اور دو سونے کےسیٹ لے کر ہمارے گھر آئیں اور ہم کو سب سامان دیا۔ ایک سیٹ نکاح کے وقت میری بیٹی کو پہنانے کے لیے دیا، دوسرا والدین کی طرف سے تحفہ تھا بہو کے لیے۔انہوں نے بولا ! یہ آپ اپنے پاس ابھی رکھ لیں، ہمارا تحفہ ہے ۔میں نے ان کو بولا آپ خود اپنے پاس ہی رکھیں ،مگر انہوں نے منع کیا کہ نہیں ہم نے دے دیا ۔بیٹی امریکہ میں رہتی ہے، لہٰذا اس کا زیور میرے پاس ہی رکھا ہے۔علیحدگی کے بعد سسرال والے دباؤ ڈال رہے ہیں زیور کی واپسی کے لیے،جبکہ بیٹی دینا نہیں چاہتی۔قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو ،تو صورت مسئو لہ میں سائل کی بیٹی کو اسکے ساس سسر نے نکاح کے وقت جوزیورات بطور ِتحفہ دیئے تھے ،ان زیورات کی سائل کی بیٹی مالک بن چکی ہے ،لہٰذا اب علیحدگی کی صورت میں ساس سسر کا لڑکی یا اس کے والدین سے مذکور زیورات کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعا درست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ،البتہ اگر وہ زیور صرف شادی کے موقع پر پہناوے کے طور پر دیا گیا تھا ،وہ بدستور سائل کی بیٹی کے سسرال والوں کی ملکیت ہے ،چنانچہ علیحدگی کی صورت میں وہ ان کو واپس کرنا لازم اور ضروری ہے ،اس کو زبردستی روکنا درست نہیں، جس سے بہر صورت اجتناب چاہیئے۔
کما فی الفتاوى الهندية: وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية. جهز بنته وزوجها ثم زعم أن الذي دفعه إليها ماله وكان على وجه العارية عندها وقالت: هو ملكي جهزتني به أو قال الزوج ذلك بعد موتها فالقول قولهما دون الأب وحكى عن علي السغدي أن القول قول الأب وذكر مثله السرخسي وأخذ به بعض المشايخ وقال في الواقعات إن كان العرف ظاهرا بمثله في الجهاز كما في ديارنا فالقول قول الزوج، وإن كان مشتركا فالقول قول الأب، كذا في التبيين. قال الصدر الشهيد - رحمه الله تعالى - وهذا التفصيل هو المختار للفتوى، كذا في النهر الفائق الخ(ج:1،ص:327)