زکوۃ و نصاب زکوۃ

یاد داشت کھودینے والے آدمی کے مال پر زکوۃ واجب ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
92322
| تاریخ :
2026-02-18
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

یاد داشت کھودینے والے آدمی کے مال پر زکوۃ واجب ہونے کا حکم

میری والدہ جن کی عمر 83 سال ہے، الزائمر (یادداشت کھو جانے) کی مریضہ ہیں، ان کی یادداشت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، ان کا کچھ سونا بینک کے لاکر میں رکھا ہوا ہے جس کی گزشتہ 5 سال سے زکوٰۃ ادا نہیں کی گئی، ان کے چھ شادی شدہ بیٹے ہیں۔ چونکہ وہ سونے کی مالک ہیں، لیکن یادداشت کھو جانے کی وجہ سے وہ زکوٰۃ ادا نہیں کر سکیں، ان کا آمدنی کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے، اس صورتحال میں زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ واجب الادا ہے؟ اور اسے کون ادا کرے گا؟
​2۔ میرے بڑے بھائی نے سن 2000 میں کچھ سونا والدہ کو تحفے میں دیا تھا۔ میری والدہ نے وہ سونا اپنی بہوؤں کو تحفے میں دے دیا۔ اب اس سونے کا قانونی مالک کون ہے اور زکوٰۃ کسے ادا کرنی چاہیے؟ اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات کیا ہیں؟ براہ کرم تفصیل سے جواب فراہم کریں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگر سائل کی والدہ کی یادداشت مذکور بیماری کی وجہ سے اس حد تک متاثر ہو چکی ہو کہ وہ ہوش و حواس کھو بیٹھی ہو اور انہیں اچھے ،برے، رات، دن کی کوئی تمیز نہ رہی ہو اور اس كيفىت كا سال سے زائد عرصہ گزر چكا ہو تو چونکہ اس حالت میں وہ مکلف نہیں رہی اس لیے ىہ عارضہ لاحق ہونے کے بعد ان سے اس عرصہ کی تمام عبادات نماز، روزہ، زکوۃ ساقط ہو جائیں گی، البتہ جو کچھ زیور انہوں نے صحت والی زندگی میں اپنی بہووں کو دیا ہے اگر ہر ایک کو اس کے حصے کا زىور دے کر اس پرباقاعده قبضہ بھی دے دیا ہو تو یہ زیور بہووں کی ملکیت کہلائے گی اور ان پر اپنے حصہ کے زیور کی زکوۃ دینی لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الهداية: "الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول" أما الوجوب فلقوله تعالى: {وآتوا الزكاة} [البقرة: 43] ولقوله ﷺ "أدوا زكاة أموالكم" وعليه إجماع الأمة اهـ [كتاب الزكاة، ج:1 ص:95 ط: دار إحياء التراث العربي)]
وفي الشامية: وفي أصول البستي أنه لا يكلف بأدائها كالصبي العاقل إلا أنه إن زال العته توجه عليه الخطاب بالأداء حالا، وبقضاء ما مضى بلا حرج، فقد صرح بأنه يقضي القليل دون الكثير وإن لم يكن مخاطبا فيما قبل كالنائم والمغمى عليه دون الصبي إذا بلغ، وهو أقرب إلى التحقيق، كذا في شرح المغني للهندي إسماعيل ملخصا اهـ [كتاب الزكاة، ج:2 ص:258 ط: سعيد]
وفي بدائع الصنائع: وأما الجنون الطارئ فإن دام سنة كاملة فهو في حكم الأصلي ألا ترى أنه في حق الصوم كذلك كذا في حق الزكاة؛ لأن السنة في الزكاة كالشهر في الصوم، والجنون المستوعب للشهر يمنع وجوب الصوم فالمستوعب للسنة يمنع وجوب الزكاة ولهذا يمنع وجوب الصلاة والحج فكذا الزكاة اهـ [كتاب الزكاة، فصل شرائط فرضية الزكاة، الشرائط التي ترجع على من عليه المال، ج:2 ص:5 ط: سعيد)]
وفي الدر المختار: (ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (وعليه صلوات فائتة إلخ) أي بأن كان يقدر على أدائها ولو بالإيماء، فيلزمه الإيصاء بها وإلا فلا يلزمه (إلى قوله) وكذا حكم الصوم في رمضان إن أفطر فيه المسافر والمريض وماتا قبل الإقامة والصحة، وتمامه في الإمداد (وقوله: يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر(إلى قوله) وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى اهـ [كتاب الصلاة، ‌‌باب قضاء الفوائت، مطلب في إسقاط الصلاة عن الميت ج:2 ص:72 ط: سعيد)]
وفي الشامية تحت قوله: (وافتراضها عمري) قال في البدائع وعليه عامة المشايخ، ففي أي وقت أدى يكون مؤديا للواجب، ويتعين ذلك الوقت للوجوب، وإذا لم يؤد إلى آخر عمره يتضيق عليه الوجوب، حتى لو لم يؤد حتى مات يأثم اهـ [كتاب الزكاة، ج:2 ص:271 ط: سعيد)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92322کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات