اگر بچوں کی ماں اور باپ الگ ہیں یا طلاق یافتہ ہیں۔ ماں بچوں کو ایک ایسے سکول میں داخل کرنے پر اصرار کر رہی ہے جہاں مخلوط تعلیم ہو، اور وہ باپ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ سکول پر اصرار کر رہے ہیں، تو کیا باپ کو فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے؟ ذیل میں ایک ویب سائٹ سے نقل کیا گیا فتویٰ ہے۔ کیا آپ اس کی تصدیق کر سکتے ہیں؟
https://www.dar-alifta.org/en/fatwa/details/6003/a-parents-right-to-guardianship-over-minor-children
ماں بچے کی پرورش اور پرورش کی سرپرستی کی حقدار ہے کیونکہ اس کی دیکھ بھال اور اس کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے اسے اس کی ضرورت ہے۔ یہ فطری بات ہے کہ بچے کی پرورش والدین دونوں کی طرف سے اس کی فلاح و بہبود، دیکھ بھال اور مدد کے لیے کی جاتی ہے۔ علیحدگی کی صورت میں اور جب تک کہ اس میں مطلوبہ شرائط میں سے کوئی کمی نہ ہو، ماں اپنے بچے کی پرورش کے معاملے میں باپ پر سبقت لے جاتی ہے۔ ایک نگہبان ماں اپنے بچے کی پرورش اور پرورش کرتی ہے اس کے بدلے میں والد کی طرف سے ادا کیے گئے اخراجات کے مطابق جیسا کہ قانون نمبر کے آرٹیکل 388 میں بتایا گیا ہے۔ ذاتی حیثیت کے قانون کا 21/1929۔ دوسری طرف، ایک باپ کو اپنے نابالغ بچے پر مکمل سرپرستی حاصل ہے اور اسے اس کی اسکولنگ اور تعلیم سے متعلق اختیار حاصل ہے۔ وہ کوئی دوسری ذمہ داری قبول کرتا ہے چاہے بچہ 10 سال سے کم ہو یعنی اپنی ماں کی تحویل میں ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماں کی سرپرستی صرف بچے کی دیکھ بھال کے گرد گھومتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ضروری ہے کہ دونوں والدین بچے کی تعلیم پر متفق ہوں۔ تاہم، تنازعہ کی صورت میں باپ کو مکمل اختیار حاصل ہے۔
اولاد کی ایسی تعلیم و تربیت جو ان کے دین، اخلاق اور عفت و حیاء کے تحفظ کا ذریعہ ہو،والداوروالدہ دونوں پریکساں طورپراس کے انتظام کی ذمہ داری عائدہوتی ہے،چنانچہ اگر والد بچوں کو ایسے اسکول میں داخل کرنا چاہتا ہے جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم الگ الگ ہو، اور اس کی غرض بچوں کو فتنہ، بے پردگی اور مخلوط ماحول کے منفی اثرات سے بچانا ہو، تو اس کا یہ مطالبہ شرعاً درست ہے۔ خصوصاً ایسے زمانہ میں جبکہ مخلوط تعلیم کے دینی و اخلاقی نقصانات مشاہدہ میں آچکے ہیں، حتی الامکان غیر مخلوط تعلیمی ماحول اختیار کرنا ضروری ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر والد اور والدہ کے درمیان اختلاف ہو تو بچوں کی دینی و اخلاقی مصلحت کے اعتبار سے والد کی رائے کو ترجیح دی جائے گی، بشرطیکہ وہ بچوں کے حق میں ظلم، انتقام یا محض ضد کی بنیاد پر فیصلہ نہ کررہا ہو، بلکہ واقعی ان کی بہتر تربیت مقصود ہو۔
البتہ والدین دونوں کو چاہیے کہ باہمی نزاع اور ضد کے بجائے بچوں کے بہترین مفاد، دینی تربیت اورنفسیاتی سکون کو مقدم رکھیں، اور باہمی مشاورت سے ایسا راستہ اختیار کریں جس میں تعلیم بھی بہتر ہو اور دینی و اخلاقی حفاظت بھی ممکن ہوسکے۔
کما فی الشامیۃ: وفي الفتح: ويجبر الأب على أخذ الولد بعد استغنائه عن الأم لأن نفقته وصيانته عليه بالإجماع اهـ. وفي شرح المجمع: وإذا استغنى الغلام عن الخدمة أجبر الأب، أو الوصي أو الولي على أخذه لأنه أقدر على تأديبه وتعليمه. اهـ(باب الحضانۃ:ج:3،ص:566،ط:سعید)
وفی البحر: «قوله والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع) ؛ لأنه إذا استغنى يحتاج إلى تأديب والتخلق بآداب الرجال وأخلاقهم والأب أقدر على التأديب والتعنيف(کتاب الطلاق ، باب الحضانۃ،ج:4،ص:184،ط:دارالکتاب الاسلامی)
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0