زکوۃ و نصاب زکوۃ

ہدیہ ملے ہوئے پلاٹ پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟

فتوی نمبر :
92205
| تاریخ :
2026-02-16
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

ہدیہ ملے ہوئے پلاٹ پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟

السلامُ علیکم
میری زوجہ کو اسکےوالد نے 5مرلہ کا پلاٹ تحفہ میں دیا ہوا تھا جو کہ ابھی بھی اسکے نام ہے
میری زوجہ نے وہ پلاٹ کل کو بیچنے کی نیت سے رکھا ہوا ہے، اب اس وقت اسکے مالیت 7.5 تولہ سونے کی قیمت سے بہت کم ہے لیکن پلاٹ کی اندازاً رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زیادہ ہے.
آیا اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں
رہنمائی فرما دیجئے.
جزاک اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ زکوۃ واجب ہونے کے لیے تجارت کی نیت کا جو شریعت نے اعتبار کیا ہے وہ اس وقت ہے جب خریدتے وقت ہی تجارت کی نیت کی جائے ،لہٰذا اگر خریدتے وقت تجارت کی نیت نہ ہو یا بغیر خریداری کے کوئی چیز تحفۃ ًملکیت میں آجائے اور بعد میں تجارت کی نیت بھی پائی جائے تو ایسی صورت میں محض نیت کی وھہ سے شرعا ًاس پر زکوۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی، لہٰذا صورت مسؤلہ میں سائل کی بیوی کو اس کے والد کی جانب سے تحفۃً ملنے والے پلاٹ میں فقط تجارت کی نیت کرنے سے اس کی زکوٰۃ سائل کی بیوی پر لازم نہ ہوگی، البتہ اس پلاٹ کی فروختگی کے بعد جو رقم سائل کی بیوی کو حاصل ہوگی، اگر وہ بقدرِ نصاب ہو تو اس پر قمری سال مکمل ہونے پر ادائیگیِ زکوٰۃ لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدرالمختار:(لايبقى للتجارة ما) أي عبد مثلا (اشتراه لها فنوى) بعد ذلك (خدمته ثم) ما نواه للخدمة (لا يصير للتجارة) وإن نواه لها ما لم يبعه بجنس ما فيه الزكاة. والفرق أن التجارة عمل فلا تتم بمجرد النية؛ بخلاف الأول فإنه ترك العمل فيتم بها (وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة (لا ما ورثه ونواه لها) لعدم العقد إلا إذا تصرف فيه أي ناويا فتجب الزكاة لاقتران النية بالعمل (إلا الذهب والفضة) والسائمة۔
وفی رد المحتار: ( (قوله لا ما ورثه) قال في النهر: ويلحق بالإرث ما دخله من حبوب أرضه فنوى إمساكها للتجارة فلا تجب لو باعها بعد حول. اهـ. (قوله أي ناويا) قال في النهر: يعني نوى وقت البيع مثلا أن يكون بدله للتجارة ولا تكفيه النية السابقة كما هو ظاهر ما في البحر. اهـ. (قوله: فتجب الزكاة) أي إذا حال الحول على البدل ط.( ‌‌كتاب الزكاة،ج:٢،ص:٢٧٢،ط:سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالقیوم قدوس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92205کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات