پچھلے تین سالوں سے مجھے کچھ پیسے وصول کرنے ہیں جو شخص جھوٹ بول رہا ہے کہ وہ مجھے ادا کرے گا اور یہ تین سال سے زیادہ ہو گیا ہے۔ کیا مجھے اس قرضے کے پیسوں پر زکاۃ دینی ہوگی؟
واضح ہو کہ قرض کیےطور پر دی گئی رقم کے ملنے کی اگر امید ہو تو شرعاً اس رقم پر زکوٰۃ فرض ہوگی ، البتہ ادائیگی اس وقت واجب ہوگی جب مقدار نصاب یعنی ساڑھے باون (½ 52) تولہ چاندی کی قیمت کا کم ازکم پانچواں حصہ وصول ہوجائے،پانچواں حصہ وصول ہوجانے پر اس وصول شدہ رقم کی گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کردینا واجب ہے، اوراگر پورا قرض ایک ساتھ وصول ہوگیا تو تمام سالوں کی پوری زکوٰۃ ایک ساتھ اداکرنا واجب ہوگا۔
کما فی الدر: (ولو كان الدين على مقر مليء أو) على (معسر أو مفلس) أي محكوم بإفلاسه (أو) على (جاحد عليه بينة) وعن محمد لا زكاة، وهو الصحيح، ذكره ابن ملك وغيره لأن البينة قد لا تقبل (أو علم به قاض) سيجيء أن المفتى به عدم القضاء بعلم القاضي (فوصل إلى ملكه لزم زكاة ما مضى)
وفی الرد تحت قولہ: (و ھو الصحیح): قلت: ونقل الباقاني تصحيح الوجوب عن الكافي قال: وهو المعتمد، وإليه مال فخر الإسلام اهـ ولذا جزم به في الهداية والغرر والملتقى وتبعهم المصنف.اھ(کتاب الزکوٰۃ،ج:2،ص:266، ط: سعید)
وفیہ ایضا: (و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم،الخ(کتاب الزکوٰۃ،باب زکاۃالمال،ج:2،ص:305،ط:سعید)