اگر کسی بالغ شخص کے پاس صرف ساڑھے چھ تولہ سونا ہو تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہے، جبکہ ساڑھے تین لاکھ کا قرض بھی ہو اور ماہانہ خرچہ بھی مشکل سے پورا ہوتا ہو ؟
واضح ہوکہ سونے کا مستقل نصاب شرعاًساڑھے سات تولہ (7.5 تولہ) ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی سائل کے پاس صرف ساڑھے چھ تولہ سونا ہو ، اس کے علاوہ کوئی قابلِ زکوٰۃ مال (چاندی ،نقد رقم، تجارتی سامان) موجود نہ ہو، توچونکہ محض ساڑھے چھ تولہ سونے کی بنا پر وہ نصابِ زکوٰۃ کا مالک نہیں بنتا؛ اس لیے اس پر زکوٰۃ واجب نہ ہوگی، خواہ اس پر قرض ہو یا نہ ہو۔
البتہ اگر سونے کے ساتھ دیگر اموالِ زکوٰۃ میں سے بھی کچھ موجود ہو، مثلاً تھوڑی بہت رقم ہو تو پھر مجموعی مالیت کے ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابرہونے کی صورت میں سائل صاحبِ نصاب شمارہوگا،چنانچہ اس صورت میں اگر قرض منہا کرنے کے بعد اموال زکوۃ کی مالیت نصابِ زکوٰۃ (ساڑھے باون تولہ چاندی )کے برابرباقی نہ رہے تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، اور اگر قرض منہا کرنے کے باوجود اس کے پاس نصاب کے بقدر مال باقی رہتا ہو تواس مال پرایک قمری سال مکمل ہونے پرزکوٰۃ لازم ہوگی ۔
كما في الدر المختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) (إلى قوله). (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد (إلى قوله) (و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم. وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كثيابه أو تقديرا كدينه.اهـ (كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 259، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (واللازم) مبتدأ (في مضروب كل) منهما (ومعموله ولو تبرا أو حليا مطلقا) مباح الاستعمال أو لا ولو للتجمل والنفقة؛ لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا.اهـ (باب زكاة المال، ج: 2، ص: 298، ط: ايج ايم سعيد)
وفيه أيضا: (ومديون للعبد بقدر دينه) فيزكي الزائد إن بلغ نصابا. (كتاب الزكاة، ج: 2 ، ص: 263، ط: ايج ايم سعيد)
وفيه أيضا: (وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة) إلخ
وفي رد المحتار: (قوله: وقيمة العرض إلخ) تقدم قريبا تقويم العرض إذا بلغ نصابا، وما هنا في بيان ما إذا لم يبلغ. وعنده من الثمنين ما يتم به النصاب.اهـ (كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج: 2، ص: 303، ط: إيج إيم سعيد)