میں نے اپنی کمپنی سے 45 لاکھ روپے کا کار لون لیا ہوا ہے، جس کی مدت چار سال (48 ماہ) ہے۔ کمپنی کچھ منتخب ملازمین کو گاڑی دینے کے بجائے کار لون کی سہولت فراہم کرتی ہے اور اس کے ساتھ کار مینٹیننس الاؤنس بھی دیا جاتا ہے۔ کار لون کی ماہانہ قسط میری تنخواہ سے کٹتی ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ 45 لاکھ روپے کا 75٪ حصہ 48 ماہ میں وصول کیا جاتا ہے (فارمولا: 45 لاکھ × 75٪ ÷ 48 ماہ)، جبکہ باقی 25٪ رقم چار سال مکمل ہونے کے بعد ایک مشت (Balloon Payment) کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ کمپنی ہر ماہ کار مینٹیننس الاؤنس بھی دیتی ہے، جو تنخواہ سلپ میں شامل نہیں ہوتا، بلکہ الگ ٹرانزیکشن کے ذریعے ملتا ہے۔ اگرچہ یہ الاؤنس کار لون لینے سے مشروط ہے، لیکن لون ایگریمنٹ میں اس کا ذکر نہیں۔ عملی طور پر یہ الاؤنس تقریباً ماہانہ قسط کے برابر ہوتا ہے، جس سے بظاہر یہ ایک فنانس انتظام جیسا محسوس ہوتا ہے، تاہم دونوں کی ادائیگی الگ الگ ہوتی ہے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ زکات کے حساب سے کیا اس کار لون کی بقایا رقم میرے فنڈز میں سے منہا کی جا سکتی ہے؟ اگر ہاں تو کتنی رقم منہا کی جا سکتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل پر زکوٰۃ واجب ہونے کے وقت سے اگلے ایک سال تک کار لون کی جتنی قسطیں ادا کرنی ہیں، ان کو منہا کرنے کے بعد اگر سائل کی ملکیت میں نصاب کے بقدر مالِ زکوٰۃ باقی ہو تو اس پر زکوٰۃ نکالنی لازم ہوگی، ورنہ نہیں۔
کما فی رد المحتار:(قوله أو مؤجلا إلخ) عزاه في المعراج إلى شرح الطحاوي، وقال: وعن أبي حنيفة لا يمنع. وقال الصدر الشهيد: لا رواية فيه، ولكل من المنع وعدمه وجه. زاد القهستاني عن الجواهر: والصحيح أنه غير مانع اھ(كتاب الزكاة،ج:٢،ص:٢٦١،ط:سعيد)
وفی بدائع الصنائع: وأما على ظاهر الرواية فلأن العشر مؤنة الأرض النامية كالخراج فلا يعتبر فيه غنى المالك، ولهذا لا يعتبر فيه أصل الملك عندنا حتى يجب في الأراضي الموقوفة وأرض المكاتب بخلاف الزكاة فإنه لا بد فيها من غنى المالك، والغنى لا يجامع الدين، وعلى هذا يخرج مهر المرأة فإنه يمنع وجوب الزكاة عندنا معجلا كان أو مؤجلا؛ لأنها إذا طالبته يؤاخذ به، وقال بعض مشايخنا: إن المؤجل لا يمنع؛ لأنه غير مطالب به عادة، فأما المعجل فيطالب به عادة فيمنع اھ (فصل شرائط فرضية الزكاة،ج:٢،ص:٦،ط:سعيد)
وفي الهنديه:(ومنها كون المال نصابا) فلا تجب في أقل منه هكذا في العيني شرح الكنز۔اھ(الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج:١،ص:١٧٢،ط:ماجديه)