میرے والدین اور میرے بہن بھائی مجھ سے اچھا برتاؤ نہیں کرتے ،میری بیوی بچوں کو پسند نہیں کرتے ،صرف اللہ اللہ کرتے ہیں ، اللہ اور اس کے رسول ؐ کی کسی بات کو نہیں مانتے ،دل میں بغض اور کینہ رکھتے ہیں ،غیبت کرتے ہیں ، میرے ساتھ میرے بیوی بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ، میں ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا ،میں اور میری بیوی اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں، میری ماں بددعائیں دیتی ہے ،آپ بتائیں کیا اولاد کےکوئی حقوق نہیں؟
والدین کا اولاد پر ظلم کرنا، بدعائیں دینا، بغض رکھنا اور اذیت پہنچانا شرعاًناجائز اور حرام ہے، شریعت مطہرہ نے والدین کو بھی اولاد کے ساتھ نارواسلوک رکھنے سے منع فرمایاہے، چنانچہ صورت مسئولہ میں سائل کے والدین اور بہن بھائیوں کا اس کے گھر والوں کے ساتھ مذکور رویہ قطعاًمناسب نہیں، انہیں اپنے اس فعل پر نظر ثانی کرتے ہوئے سائل اور اس کے گھر والوں کے ساتھ صلہ رحمی کا طرزعمل اختیار کرنے کا اہتمام چاہیے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص:تحت قول اللہ تعالیٰ (وقضى ربك ألا تعبدوا)قال الله تعالى وقضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه وبالوالدين إحسانا وقضى ربك معناه أمر ربك وأمر بالوالدين إحسانا وقيل معناه وأوصى بالوالدين إحسانا والمعنى واحد لأن الوصية أمر وقد أوصى الله تعالى ببر الوالدين والإحسان إليهما (الی قولہ)۔وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أن من الكبائر عقوق الوالدين الخ(سورۃ الا سراء،ایت:23،ج:5، ص:19 ، ناشر: بیروت )
وفی صحیح مسلم: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛أَنَّ رَجُلًا قال: يا رسول الله! إن لي قرابة. أصلهم ويقطعوني. وأحسن إليهم ويسيئون إلي. وأحلم عنهم ويجهلون علي. فقال "لئن كنت كما قلت، فكأنما تسفهم المل. ولا يزال معك من الله ظهير عليهم، ما دمت على ذلك"(باب صلۃ الرحم،ج:4، ص:1982،رقم:2558، ناشر:بیروت)
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0