کیا 3496438.64 کی رقم (کل سونا + نقد رقم) پر زکوٰۃ واجب ہے؟ یہ رقم ایک سال سے میری بیوی کی تحویل میں ہے، لیکن وہ زکوٰۃ کیسے ادا کرے کیونکہ وہ گھریلو خاتون ہے اور کوئی کام نہیں کرتی۔
واضح ہو کہ ادائیگی زکوۃ کے لئے زکوۃ ادا کر نے والے شخص کا ملازمت اور کوئی کاروبار کرنا ضروری نہیں بلکہ صاحب نصاب ہو نے کے بعد قمر ی سال مکمل ہو نے پر اس کے ذمہ ادائیگی زکوۃ لازم ہو گی ، چاہے وہ زکوۃ کی رقم کا خود انتظام کر کے اداکرے یا کوئی دوسرا بندہ اس کی طرف سے بطور وکیل اس کی ادائیگی کرے، لہذا سائل کی بیوی کی ملکیت میں موجود سونےاور کیش رقم کی مجموعی مالیت چونکہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت سے زائد بنتی ہے اوراس پر قمری سال بھی مکمل ہو چکا ہے اس لئےسائل کی بیوی کے ذمہ ہی ادائیگی زکوۃ لازم ہوگی، تاہم اس کی ذاتی رقم سے ادائیگی زکوۃ کے بجائے اگر سائل اس کی طرف سےزکوۃادا کرنا چاہے تو کر سکتا ہے،اس سے اس کی زکوۃ شرعاًدرست اد ا ہو جائے گی ۔
کما فی تبيين الحقائق:(وشرط وجوبها العقل والبلوغ والإسلام والحرية، وملك نصاب حولي فارغ عن الدين وحاجته الأصلية نام، ولو تقديرا)،الخ(شروط وجوبہا ، ج: 1 ص:252 ناشر:المطبعۃ الکبری الامیریۃ)
وفی بدائع الصنائع: ان الزکاۃ عبادۃ عندنا والعبادۃ لاتتادی الا باختیار من علیہ اما بمباشرتہ بنفسہاو بامرہ او انابتہ غیرہ فیقوم النائب مقامہ فیصیر مأدیا بید النائب ،الخ ( فصل زكاة الزوع والثمار، ج: 2 ص: 53 ناشر سعید)
وفی الھدایۃ :تجب فی کل مائتی درھم خمسۃ درھم وفی کل عشرین مثقال ذھب نصف مثقال مضروبا کان او لم یکن مصوغا او غیر مصوغ حلیا کان للرجال او للنساء ،الخ ( الباب الثالث فی زکاۃ الذھب ج:1 ص: 53 ناشر قدیمی)
في الهندية:وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. ،اھ( الفصل الثاني في العروض،ج:١،ص:١٧٩،ط:ماجديه)