زکوۃ و نصاب زکوۃ

کمپنی میں سرمایہ کاری کرنے والے کی زکوۃ کی ادائیگی اس پر لازم ہوگی یا کمپنی پر؟

فتوی نمبر :
91502
| تاریخ :
2026-01-30
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کمپنی میں سرمایہ کاری کرنے والے کی زکوۃ کی ادائیگی اس پر لازم ہوگی یا کمپنی پر؟

السلام علیکم ! میں پارٹنرشپ میں کاروبار کر رہا ہوں۔ میں نے رقم نہیں لگائی، میرے پارٹنر نے ساری سرمایہ کاری کی ہے۔ جو سرمایہ کاری اس نے کی ہے، اس کی زکات کمپنی ادا کرے گی یا پارٹنر خود ادا کرے گا؟ ہم دونوں 50 فیصدنفع کے شریک ہیں۔ جو منافع ہوگا، اس پر زکات دینی ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسؤلہ میں سائل کے دوست نے جو رقم کمپنی میں لگائی ہے اس رقم کی زکوٰۃ سائل کے دوست پر لازم ہوگی، لہذا ادائیگی زکوٰۃ کے وقت جو منافع حاصل ہوچکے ہوں اسے اصل سرمایہ اور دیگر اموال زکوٰۃ کے ساتھ شامل کرکے قمری سال مکمل ہونے پر مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد بطور زکوٰۃ دینا لازم ہوگا، البتہ اگر سائل کا دوست سائل کو زکوٰۃ ادا کرنے کا اختیار دے دیں تو بھی یہ جائز ہے اور ان کے زکوٰۃ ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی، اسی طرح سائل کو جو منافع حاصل ہوتا ہے اگر وہ زکوٰۃ کے نصاب کو پہنچ چکا ہو اور اس پر سال گزر گیا ہو تو اس کی زکوٰۃ سائل پر لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی المبسوط: وأما مال المضاربة فعلى رب المال ‌زكاة ‌رأس ‌المال، وحصته من الربح، وعلى المضارب زكاة حصته من الربح إذا وصلت يده إليه إن كان نصابا أو كان له من المال ما يتم به النصاب عندنا اھ( کتاب الزکوۃ، ج: 2، ص: 204، ط: دار المعرفة )
و فی الھندیة: ‌إذا ‌وكل ‌في ‌أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوکيل فإن لم ينو عند التوکيل ونوى عند دفع الوکيل جاز کذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوکيل کذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز اھ( کتاب الزکوۃ، الباب الاول فی تفسیر الزکوۃ، ج: 1، ص: 171، ط: ماجدیة )
وفیہا ایضا: الزكاة ‌واجبة ‌في ‌عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب کذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة کذا في التبيين وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة کذا في المضمرات اھ( الفصل الثانی فی العروض، ج: 1، ص: 189، ط: ماجدیة)
وفیہا ایضا: ‌ومن ‌كان ‌له ‌نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك اھ ( الباب الاول فی تفسیر الزکوٰۃ،ج: 1، ص: 175، ط: ماجدیة )
و فی الدر المختار: (‌وسبب ‌لزوم ‌أدائها توجه الخطاب) يعني قوله تعالى: (آتوا الزكاة) (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة کيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة کما سيجئ، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة، أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض فتصير للتجارة بلا نية صريحا اھ (کتاب الزکوۃ، ج: 2، ص: 267، ط: سعید )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91502کی تصدیق کریں
0     102
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات