السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ: اگر کسی عورت کے پاس ایک (1 )تولہ یا اس سے کم سونا ہو،اور اس کے پاس کوئی پیسے نہ ہو، تو کیا اس عورت پر زکوٰۃ فرض ہے ؟ اور اس عورت پر عیدالاضحیٰ کی قربانی واجب ہے یا نہیں؟
اگرکسی کے پاس صرف ایک تولہ یا اس سے کم سونا ہو، اور اس کے علاوہ دیگر اموالِ زکوۃ (چاندی ،مال تجارت اور نقدی) میں سے کچھ بھی موجود نہ ہو، تو اس پر زکوۃ لازم نہیں، اسی طرح اگر حاجاتِ اصلیہ سے زائد سامان بقدر نصاب بھی موجود نہ ہو، تو اس پر قربانی بھی لازم نہیں۔
کمافی الدر المختار: وشرائطھا الاسلام والاقامة والیسار الذی یتعلق به) وجوب (صدقۃ الفطر) الخ
وفی الدر: تحت (وقوله: والیسار) بان ملک مأتی درھم أو عرضاً یساویھا غیر مسکنه و ثیاب اللبس أمتاع یحتاجه الی ان یذبح الاضحیة الخ (کتاب الاضحیة، ج 6، ص 312، ط: ایچ ایم سعید)
وفی الھندیة: (وأما شرائط الوجوب) منھا الیسار و ھو ما یتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما یتعلق به وجوب الزکاۃ الخ (کتاب الاضحیة، الباب الاول، ج 5، ص 292، ط:مکتبة ماجدیة)
وفیھا ایضاً: تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة الخ (کتاب الزکوٰۃ،الباب الثالث في زكاة الذهب والفضة والعروض،الفصل الأول في زكاة الذهب والفضة،ج1،ص178،ط:مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفی التاتار خانیة: و شرط وجوبھا الیسار عند أصحابنا رحمھم اللہ ، و الموسر فی ظاھر الروایة من له مأتا درھم الخ (کتاب الاضحیة، الفصل الاول، ج 17، ص 232، ط:مکتبة رشیدیة)-