السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ ! ایک شخص صاحب نصاب نہیں ہے ، بلکہ مقروض ہے ، مگر اسکی بیوی کے پاس زیورات ہیں اور بیوی کوئی کام نہیں کرتی ہے ، جس سے زکوۃ ادا کر سکے, زکوۃ کی رقم اسکا شوہر ہی دیتا ہے تھوڑی تھوڑی کرکے ابھی پورا مہر بھی نہیں ادا ہوا ہے اسکا،مسئلہ (١) کیا شوہر زکوۃ ادا کرنے کے لۓ بیوی کو مہر کی رقم یہ کہہ کر دے سکتا ہے کہ اس سے زکوۃ ادا کر دو؟مسئلہ (٢) کیا شوہر بیوی کو یہ کہہ سکتا ہے کہ میرے چھوٹے بھائی کو یہ رقم دے دو تاکہ کچھ قرض ادا ہو جائے اور کیا اپنے بھائی سے یا والدہ کے ذریعہ یہ بات کہلوا سکتا ہے کہ جو پیسے ملے ہیں ، اسے قرض داروں کو دیں ؟مسئلہ (٣) سال مکمل ہونے سے پہلے تھوڑی تھوڑی جو زکوۃ ادا کرتا ہے، اگر سال مکمل ہونے تک وہ زیورات ختم ہو جائیں تواس کو کیا کرنا ہوگا ؟ برائے مہربانی جواب ارسال فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
(1۔2)واضح ہو کہ صاحب نصاب شخص پر اپنے مال کی زکوٰۃ خود ادا کرنا لازم ہے، البتہ اگر کوئی دوسرا شخص اس کی اجازت سے اس کی جانب سے زکوٰۃ ادا کرے تو اس طرح بھی زکوٰۃ ادا ہوجائیگی ۔ چنانچہ صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی اگر صاحب نصاب ہے تو اس پر اپنے سونے کی زکوٰۃ خود ادا کرنا لازم ہے ، تاہم اگر سائل اپنے ذمہ بیوی کا واجب الاداء مہر اس کی اجازت سے بطور زکوٰۃ ادا کردے تو اس طرح سائل اور اس کی بیوی دونوں اپنی اپنی شرعی ذمہ داری ( یعنی مہر اور زکوٰۃ کی ادائیگی ) سے سبکدوش ہوجائیں گے ،اسی طرح اگر شوہر بیوی کو زکوٰۃ کی رقم مستحق دیور کو دینے کا کہے اور زکوٰۃ کی رقم پر قبضہ کر لینے کے بعد اگر وہ دیور اپنے بھائی کا قرضہ بخوشی ادا کرتاہے تو ادا کر سکتاہے۔
(3) سائل نے سوال میں چونکہ اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ سال بھر تھوڑی تھوڑی کر کے سابقہ واجب شدہ زکوٰۃ ادا کی جارہی ہے یا آئندہ آنے والی زکوٰۃ پیشگی ادا کی جارہی ہے، اس لئے دونوں صورتوں کا حکم درج ذیل ہے:
چنانچہ اگر گزشتہ سالوں کی واجب شدہ زکوٰۃ تھوڑی تھوڑی کرکے ادا کی جارہی ہو ، تو زیورات ختم ہوجانے کے باوجود پہلے سے واجب شدہ زکوٰۃ ساقط نہیں ہوگی ، بلکہ بقیہ زکوٰۃ ادا کرنا لازم رہے گا، اور اگر آئندہ سال کی زکوٰۃ سال مکمل ہونے سے پہلے پیشگی ادا کی جارہی ہو، پھر سال پورا ہونے سے پہلے زیورات ختم ہوجائیں یا نصاب باقی نہ رہے ، تو جو رقم پہلے ادا کی جاچکی ہو، وہ نفلی صدقہ شمار ہوگا، اور سال مکمل ہونے پر نصاب موجود نہ ہونے کی وجہ سے مزید زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔
کمافی بدائع الصنائع:أن الزكاة عبادة عندنا والعبادة لا تتأدى إلا باختيار من عليه إما بمباشرته بنفسه، أو بأمره، أو إنابته غيره فيقوم النائب مقامه فيصير مؤديا بيد النائب(ج۲، ص۵۳)
وفی المبسوط للسرخسي: (قال) وليس في أقل من عشرين مثقالا من الذهب زكاة لحديث عمرو بن حزم قال: فيه «، وفي الذهب ما لم تبلغ قيمته مائتي درهم فلا صدقة فيه» والدينار كان مقوما بعشرة دراهم على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فذلك تنصيص على أنه لا شيء في الذهب حتى يبلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال اھ (2/ 190)
وفی الھندیۃ: «ويجوز تعجيل الزكاة بعد ملك النصاب، ولا يجوز قبله كذا في الخلاصة.»(کتاب الزکاۃ،ج:1،ص:176، ناشر:بیروت)
وفی حاشیۃ ابن عابدین:«(قوله: ولو عجل ذو نصاب) قيد بكونه ذا نصاب؛ لأنه لو ملك أقل منه فعجل خمسة عن مائتين ثم تم الحول على مائتين لا يجوزاھ(کتاب الزکوٰۃ، ج:2،ص:293،ناشر:سعید)
وفی بدائع الصنائع:«لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداءالخ (کتاب الزکوٰۃفصل صفة الواجب في أموال التجارۃ، ج:2، ص:22، ناشر:سعید)