السلام علیکم !
میری بیوی کے پاس 21 قیراط سونا 75.58 گرام ہے اور 22 قیراط سونا 30.181 گرام ہے۔ اس کے پاس 24 قیراط یا 99.9٪ خالص سونا بالکل نہیں ہے، نہ چاندی میں کچھ ہے اور نہ ہی اس کے علاوہ کوئی نقد رقم ہے۔
اوپر بیان کردہ سونے کے گرام کو خالص (24 قیراط) سونے میں تبدیل کرنے کی حساب کتاب یہ ہوگی:
21 قیراط سونا = 66.1325 گرام (24 قیراط خالص سونے کے حساب سے)
22 قیراط سونا = 27.6659 گرام (24 قیراط خالص سونے کے حساب سے)
یوں کل خالص سونا 93.7984 گرام بنتا ہے جو میری بیوی کی ملکیت ہے۔
25 نومبر 2025 کو سونے کی قیمت 379,640 پاکستانی روپے فی 10 گرام تھی۔
میری حساب کے مطابق مجھے کل 93.7984 گرام سونے پر 89,061 پاکستانی روپے زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
براہِ کرم میری اس حساب کتاب کی تصدیق فرما دیں، اور یہ بھی بتا دیں کہ کیا میں زکوٰۃ مقررہ تاریخ (یعنی 25 نومبر) کے بعد مختلف مہینوں میں ادا کر سکتا ہوں؟
واضح ہو کہ زیورات بن جانے کے بعد ان میں شامل کردہ کھوٹ و غیرہ سونے کے تابع شمار ہوتا ہے اور زکوٰۃ ان زیورات کی مجموعی مقدار کی مارکیٹ میں رائج قیمت فروخت پر لازم ہوتی ہے لہذا سائل کو چاہیئے کہ وہ مارکیٹ سے ان زیورات کی قیمت فروخت معلوم کرکے اس کی مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد بطور زکوٰۃادا کرے لیکن چونکہ ادائیگی زکوۃ میں قمری سال کی رعایت رکھنا ضروری ہے اس لیے سائل کی اہلیہ پر لازم ہے کہ وہ ادائیگی زکوۃ کے لیے عیسوی سال کے بجائے قمری سال کے اعتبار سے وقت متعین کرے، البتہ گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرتے وقت اگر عیسوی تاریخ کے اعتبار سے زکوٰۃ دیتی آئی ہو ، تو اسمیں مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد دینے کے بجائے دو اشاریہ پانچ سات (7 2.5 ) فیصد کے اعتبار سے زکوۃ نکالنے کا اہتمام کرے ، تاکہ دونوں سالوں کا درمیانی فرق برابر ہوسکے جبکہ زکوٰۃ کی واجب الاداء رقم چونکہ یک مشت ادا کرنا لازم نہیں تھوڑی تھوڑی ادا کرنے کی بھی اجازت ہے، اس لئے اگر سائل کی اہلیہ کے لئے یہ تمام رقم یکمشت ادا کرنا مشکل ہو تو وہ تھوڑا تھوڑا کرکے بھی دے سکتی ہے ،لیکن بلا عذر زکوٰۃ ادا کرنے میں تاخیر کرنا مکروہ ہے ،اس لیے مناسب یہی ہےکہ بلاوجہ زکوٰۃ ادا کرنے میں تاخیر نہ کی جائے ۔
کما فی الدر المختار : ’(وافتراضها عمري) أي على التراخي وصححه الباقاني وغيره (وقيل: فوري) أي واجب على الفور (وعليه الفتوى) كما في شرح الوهبانية (فيأثم بتأخيرها) بلا عذر (وترد شهادته) لأن الأمر بالصرف إلى الفقير معه قرينة الفور وهي أنه لدفع حاجته وهي معجلة، فمتى لم تجب على الفور لم يحصل المقصود من الإيجاب على وجه التمام، وتمامه في الفتح.
و فی بدائع الصنائع : لان الواجب الاصلی عندھما ھو ربع عشر العین وانما لہ ولایۃ النقل الی القیمۃ یوم الاداء فیعتبر قیمتھا یوم الاداء و الصحیح ان ھذا مذھب جمیع اصحابنا ( واما صفۃ الواجب فی اموال التجارۃ ، ج : 2 ، ص : 22 ، ط : سعید )
و فی الدر المختار : و تعتبر القیمۃ یوم الوجوب ، وقالا یوم الاداء ، و فو السوائم یوم الاداء اجماعا و ھو الاصح ( باب زکاۃ الغنم ، ج : 2 ، ص : 286 ، ط : سعید )
و فی الھندیۃ : واذا کان الغالب علی الدراھم الفضۃ فھی فضۃ وان کان الغالب علی الدنانیر الذھب فھی ذھب ( کتاب الصرف ، ج : 3 ، ص : 219 ، ط : ماجدیہ )