زکوۃ و نصاب زکوۃ

زیورات میں سونے کی مقدار معلوم نہ ہونے پر زکوۃ کیسے دی جائے؟

فتوی نمبر :
90367
| تاریخ :
2025-12-29
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زیورات میں سونے کی مقدار معلوم نہ ہونے پر زکوۃ کیسے دی جائے؟

گھر میں جو سونے کے زیورات ہوتے ہیں، ان پر زکوٰۃ کس حساب سے نکالی جائے گی؟ کیونکہ وہ خالص نہیں ہوتے بلکہ 19، 21 یا 22 کیرٹ کے ہوتے ہیں اور ان میں موتی اور نگ بھی جڑے ہوتے ہیں۔یہ بھی معلوم کرنا ممکن نہیں ہوتا کہ موتیوں، نگوں اور ڈوریوں کا وزن کتنا ہے، اور نہ ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ زیورات میں خالص سونے کی مقدار کتنی ہے۔2۔ میں نے گزشتہ تین سالوں کی زکوٰۃ (زیورات پر) مکمل نصاب کے مطابق ادا نہیں کی، بلکہ وقتاً فوقتاً تھوڑی تھوڑی زکوٰۃ دیتا رہا ہوں، اور میرا خیال ہے کہ ابھی بھی ان تین سالوں کی زکوٰۃ مکمل ادا نہیں ہو سکی۔اب کیا گزشتہ ہر سال کی زکوٰۃ کے لیے اس وقت کے سونے کے ریٹ معلوم کر کے دوبارہ زیورات کا نصاب بنانا ہوگا؟3۔ جڑاؤ یعنی بنے ہوئے زیورات (جبکہ خالص سونے کی مقدار معلوم نہ ہو) کی زکوٰۃ نکالنے کا کیا طریقہ کار ہوگا؟
کیا ایسا کوئی ادارہ یا فورم موجود ہے جو گزشتہ سالوں کے حوالے سے زیورات کے نصاب کا حساب عوام کے لیے مرتب کرتا ہو؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سونےاور دیگر دھاتوں سے بنے ہوئے زیورات میں جب سونا غالب ہو مثلاً 12 کیرٹ سے زیادہ ہو تو وہ زیورات شرعاً سونا ہی کہلا تے ہیں ، اور اسی میں سے زکوۃ کی ادائیگی لازم ہو تی ہے ، لیکن اگر کوئی اسی سونے میں ادائیگی نہ کرنا چاہے ، بلکہ وہ اپنے پاس رکھ کر اس کی قیمت ادا کرنا چاہے تو اس کے پاس جس کیرٹ کا سونا ہو گا ،اسی کی مارکیٹ ریٹ کے حساب سے قیمت لگائی جائے گی ، نہ کہ ہر حال میں 24 کیرٹ کی، اس لئے اس سلسلہ میں کوئی پیچیدگی نہیں کہ جس سے سائل کو پریشانی لاحق ہو ، دوسری بات یہ کہ عموماً زیورات کے ساتھ سنار کی رسید ہوتی ہے، جس میں تمام تفصیلات لکھی ہوئی ہیں کہ کس مقدار میں اور کس کیرٹ میں سونا اس زیورمیں استعمال ہوا، اور کس مقدار میں باقی دھاتوں کا استعمال ہواہے، چنانچہ رسید دیکھ کر بھی فیصلہ کیا جاسکتا ہے، اور اگر رسید نہ ہو تو تجربہ کار سنار کے پاس زیورات لے جا کر بھی غالب انداز ے ( مثلاً یوں اندازہ ہو جائے کہ یہ زیور آدھے تولہ سے سے زیادہ نہیں ہو سکتا ) کے مطابق وزن کی تعیین کی جاسکتی ہے، جس پر عمل کر نے کی شرعاً گنجائش ہے۔
اس کے بعد واضح ہوکہ صورتِ مسئولہ میں اگر سونا سائل کی ذاتی ملکیت ہو،اور اس نے پچھلے تین سالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کی ہو، تو اس کے ذمہ گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی لازم اور ضروری ہے،سونے اور چاندی کی گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مذکورہ سونے میں سے ہر سال کی زکوٰۃ کے بدلے چالیسواں حصہ ادا کرے، یا سونے و چاندی کی موجودہ مارکیٹ ریٹ معلوم کر کے اس سے ڈھائی فیصد کے حساب سے پہلے سال کی زکوٰۃ ادا کرے،اس کے بعد اگلے سال کی زکوٰۃ نکالتے وقت پہلے سال کی زکوٰۃ کی مقدار (ڈھائی فیصد) کو بقیہ مال سے منہا کر کے دوسرے سال کی زکوٰۃ ادا کرے، پھر تیسرے سال کا حساب کرتے ہوئے گزشتہ دو سالوں کی زکوٰۃ کی مقدار کو منہا کر کے بقیہ مال کا ڈھائی فیصد نکالے، اسی طرح حساب کر کے تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الہدایۃ: " ‌الزكاة ‌واجبة ‌على ‌الحر ‌العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول " أما الوجوب فلقوله تعالى: {وَآتُوا الزَّكَاةَ} [البقرة: 43] ولقوله صلى الله عليه وسلم " أدوا زكاة أموالكم " وعليه إجماع الأمة،اھ(کتاب الزکاۃ ،ج:1 ص :95 ناشر: بیروت)
وکما فی بدائع الصنائع :وبيان ذلك أنه ‌إذا ‌كان ‌لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، الخ(ج:2 ص ؛7 الشرائط التی ترجع علی من علیہ المال ناشر: سعید)
وفیہ ایضا: ‌لأن ‌الواجب ‌الأصلي ‌عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء،الخ ( فصل صفۃ الواجب فی اموال التجارۃ ،ج:2 ص: 22 ناشر: سعید)
وفی حاشیۃ ابن العابدین :وفي الدر أفاد وجوب الزكاة في النقدين ولو كانا للتجمل أو للنفقة قال لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا قوله: "أو ما يساوي قيمته" الأولى ،الخ(ج:2 ص: 714 باب زکاۃ المال)
وفیہ ایضا ‌:فوصل ‌إلى ‌ملكه ‌لزم زكاة ما مضى( ج:2 ، ص : 267 باب الزکاۃ، ناشر سعید)
وفي الفتاوي الهندية ‌:وأما ‌اليواقيت واللآلئ والجواهر فلا زكاة فيها، وإن كانت حليا إلا أن تكون للتجارة كذا في الجوهرة النيرة.اھ(ج:1 مسائل شتی فی الزکاۃ ص :180 ناشر مجیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زکریا الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90367کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات