زکوۃ و نصاب زکوۃ

خیراتی ادارے میں کن لوگوں کی معاونت کرنی چاہئے ؟

فتوی نمبر :
899
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

خیراتی ادارے میں کن لوگوں کی معاونت کرنی چاہئے ؟

محترم جناب مفتی صاحب !
میں ایک خیراتی ادارہ کی نمائندگی کر رہا ہوں جس کا مقصد کمپنی کے ایسے ملازمین کی مدد کرنا ہے جو رٹائرڈ ، فوت شدہ یا محتاج ہیں ۔ حال میں ہمارے ایک ملازم کا انتقال ہوا جس کے دو بیٹے ہیں پہلی بیوی سے جو مطلقہ ہے ۔ اور دوسری بیوی سے ایک بیٹی ہے، دوسری بیوی اپنے شوہر کے انتقال کے بعد شوہر کے بھانجے بھتیجے کے نکاح میں آگئی ، وہ بیٹی بھی انہی کے ساتھ رہتی ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ ادارے کی طرف سے کی امداد کا زیادہ مستحق / قابل ان سب میں کون ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور ادارہ اگر اپنے ملازمین میں سے مستحقین کی معاونت چاہتا ہو اور یہ معاونت بھی زکوۃ اور دیگر صدقات واجبہ کی مد سے کی جاتی ہو تو اس صورت میں مذکور رقم سے ان لوگوں کی معاونت بلا شبہ جائز اور درست ہے جو واقعۃً مستحق زکوة ہوں لہذا ان لوگوں میں سے جتنے بھی مستحق زکوۃ ہوں ان سب کی معاونت بلا شبہ باعث اجر و ثواب ہے اور سائل کو ایسے ہی لوگوں کی معاونت کرنی چاہیے ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الفتاوى الهندية: فههنا أحكام أحدهما أن صرف الغلة إلى فقراء القرابة أولى فإن فضل منها شيء يصرف للأجانب والثاني أن لا ينظر إلى المحتاجين يوم خلقت الغلة والثالث أن ينظر إلى الأقرب فالأقرب منه في القرابة اھ (2/ 395)
و في الفتاوى الهندية: والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأعمام والعمات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأخوال والخالات ثم إلى أولادهم ثم إلى ذوي الأرحام ثم إلى الجيران ثم إلى أهل حرفته ثم إلى أهل مصره أو قريته كذا في السراج الوهاج اھ (1/ 190) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 899کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات