میں اقساط پر لوگوں کو چیزیں لیکر دیتا ہوں، میں نے کاروبار مارچ ۲۰۲۵ میں شروع کیا، کسی سے اپریل میں بیس ہزار منافع لیا، کسی سے جون میں ایک لاکھ کا منافع لیا، کسی سے ستمبر میں منافع لیا، اب یہ منافع چونکہ مختلف مہینوں میں لیا گیا ہے تو اگلے سال مارچ ۲۰۲۶میں صرف مارچ میں لیے گیے منافع پر زکوۃ فرض ہوگی یا سب پر ہوگی؟ اور اگر پورے سال کے پیسوں پر فرض ہوگی تو کیسے ہوگی؟ کیونکہ زکوۃ کےلئے تو شرط ہے کہ مال پر سال گزرا ہو، جبکہ سارے منافع پر سال نہیں گزرا ہوگا۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ زکوٰۃ کتنے پیسوں پر فرض ہے۔ شکریہ
واضح ہو کہ جس شخص کے پاس روز مرہ اخراجات کے علاوہ اس قدر رقم (خواہ کاروبار میں لگی ہوئی ہو، یا کیش کی صورت میں ہو) اموال تجارت، سونا، چاندی موجود ہو کہ جس کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے، تو وہ شخص شرعا ًصاحب نصاب کہلاتا ہے، جبکہ صاحب نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر مال ِ زکوٰۃ کے مالک) بننے کے بعدہر رقم پر الگ الگ سال گزرناشرط نہیں، بلکہ نصاب کے مجموعی مالیت (اگرچہ وہ رقم منافع کی صورت میں مختلف مہینوں میں حاصل ہوئی ہو، یا کاروبار میں انوسٹ کیاگیاہو، یا روز مرہ کے اخراجات سے زائد رقم گھر میں موجود ہو) پر قمری سال گزرنے کی صورت میں ان تمام رقوم پر زکوۃ واجب ہوگی، اور اس وقت موجود مجموعی مالیت میں سے ڈھائی فیصد بطورزکوۃ دینا لازم ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (وشرط كمال النصاب) ولو سائمة (في طرفي الحول) في الابتداء للانعقاد وفي الانتهاء للوجوب (فلا يضر نقصانه بينهما) فلو هلك كله بطل الحول اھ(باب زکاۃ المال، ج 2، ص 302، ط: سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: وَمَنْ كان له نِصَابٌ فَاسْتَفَادَ في أَثْنَاءِ الْحَوْلِ مَالًا من جِنْسِه ضَمَّهُ إلَى مَالِهِ وَزَكَّاهُ الْمُسْتَفَادُ من نَمَائِهِ أَوَّلًا وَبِأَيِّ وَجْهٍ اسْتَفَادَ ضَمَّهُ سَوَاءٌ كان بِمِيرَاثٍ أو هِبَةٍ أو غَيْرِ ذلك وَلَوْ كان من غَيْرِ جِنْسِهِ من كل وَجْهٍ كَالْغَنَمِ مع الْإِبِلِ فإنه لَا يَضُمُّ هَكَذَا في الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَةِ الخ( کتاب الزکاۃ، الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها، ج 1، ص 175، ط: ماجدیۃ)۔