زکوۃ و نصاب زکوۃ

تین تولہ سونے کے ساتھ پیسوں کی موجودگی میں زکوۃ اور قربانی کا حکم

فتوی نمبر :
89725
| تاریخ :
2025-12-07
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

تین تولہ سونے کے ساتھ پیسوں کی موجودگی میں زکوۃ اور قربانی کا حکم

اسلام علیکم مفتی صاحب میرے پاس کم و بیش 3 تولہ سونا اور نقدی رقم جو کہ بونڈ کی صورت میں ہے وہ 126,500 ہیں تو براہ کرم زكوة کتنی ہوتی ہے وہ واضح فرمائیں نیز کچھ رقم اتنی جمع ہے جو ذاتی خرچے کیلئے ہے اس پر سال نہیں ہوا اور کب ادا کروں زكوة كيونكہ اب جا کر اتنی رقم جمع ہوئی ہے ـ اور کیا قربانی بھی ہو گی ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائل کے پاس تین تولہ سونے کے ساتھ چونکہ نقدی بھی موجود ہے ، جن کی موجودہ مجموعی مالیت نصاب کو پہنچتی ہے ، اس لئے شرعا سائلہ صاحب نصاب شمار ہوگی ،چنانچہ جس وقت سے سائلہ کے پاس سونا و نقدی کی مجموعی مالیت بقدر نصاب آئی ہے، اس وقت سے اگر ابھی تک اس پر سال مکمل ہوچکا ہو تو ایسی صورت میں سال مکمل ہونے پر سائلہ کی ملکیت میں جو کچھ سونا اور نقدی ہوگا ( اگر چہ اس میں سے کچھ نقدی پر سال نہ گزرا ہو تب بھی ) اس پوری مالیت سے قرضہ جات کو منہا کرنے کے بعد بقیہ مالیت کا ڈھائی فیصد بطور زکوٰۃ دینا لازم ہوگا ، اسی طرح قربانی کے ایام میں بھی اگر سائلہ صاحب نصاب ہو تو سائلہ کے ذمہ قربانی بھی لازم ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فى بدائع الصنائع:ومنها الغنى لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من وجد سعة فليضح» شرط عليه الصلاة والسلام السعة وهي الغنى ولأنا أوجبناها بمطلق المال ومن الجائز أن يستغرق الواجب جميع ماله فيؤدي إلى الحرج فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر، وقد ذكرناه وما يتصل به من المسائل في صدقة الفطر.(ج:٥،ص:٦٤ِ،ط:سعيد)
و فى الدرالمختار:(وَسببه) أيْ سبب افْتراضها (ملْك نصابٍ حوليٍ) نسبة للحول لِحولانه عليه (تام)(ج:٢،ص:٢٥٩،ط:سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عاشق یونس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89725کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات