جناب مفتی صاحب!
السلام علیکم! گزارش عرض ہے کہ ہمارے ایک عزیز کے پاس کاروبار میں پندرہ لاکھ روپے لگے ،ان کو کاروبار میں نقصان ہو گیا،ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی دو چار صاحب ثروت لوگ ان کی مدد کر دیں، چاہے وہ زکوٰۃ کیوں نہ ہو، اور جب ان کا کام بڑھے گا، توہ وہ ہر مہینے کی ایک مالیت باندھ کر ان زکوٰۃ کی رقم کو نکالتے رہیں گے،کیا شریعت میں ایسا ہو سکتا ہے؟
نوٹ: وہ اپنے کاروبار کو درست کرنے کے لیے تعاون کے خواہاں ہیں۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ طریقہ پرزکوٰۃ تو شرعاً درست نہیں، البتہ متعلقہ شخص اگر مستحق زکوٰۃ ہو تو زکوٰۃ کی مد سے مالکانہ قبضہ کے ساتھ اس کی معاونت کرنا شرعاً بھی جائز ہے ۔
ففي الدر المختار: باب المصرف أي مصرف الزكاة والعشر (الى قوله) (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة. (ومسكين من لا شيء له) اھ (2/ 339)
وفيه أيضًا : (و) لا إلى (غني) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال کان (إلی قوله) (و) لا إلى (طفله) بخلاف ولده الكبير وأبيه وامرأته الفقراء وطفل الغنية فيجوز لانتفاء المانع. (2/ 347) واللہ اعلم بالصواب