میری ایک دوکان ہے، جس کا آدھا حصہ میرے استعمال میں ہے اور دوسرا آدھا حصہ کرائے پر ہے جو 2400 روپے ہاہانہ ہے، اس دوکان کی اصل قیمت آج کل کے بازار کے بھاؤ کے حساب سے دس لاکھ روپے ہے، یہ دوکان میرے اپنے قبضے میں ہے، پچھلےپانچ سال سے ایک سال کے عرصے میں مجھ پر اس دوکان کے عوض کتنے روپے زکوٰۃ بنتی ہے؟
واضح ہو کہ دوکان کی اصل مالیت پر کوئی زکوٰۃ نہیں ، خواہ اس کی مالیت تھوڑی ہو یا زیادہ، البتہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اور کرایہ وغیرہ سے جو کچھ حاصل ہواہے، اور اس میں سے جو کچھ باقی ہے اس پر اور دکان کے سامان کی موجودہ مالیت ہے اگر وہ بقدرِ نصاب ہو تواس کا چالیسواں حصہ بطور زکوٰہ نکالنا اس پر لازم ہے۔