ایک شخص کے پاس ایک مکان ہے جو اس نے سرمایہ کاری یا فروخت کرنے کے مقصد سے خریدا تھا، ایک دوسرا مکان کرایہ پر دیا گیا ہے، اور ایک تیسرا مکان بغیر کسی مقصد کے قبضے میں ہے، میری سمجھ کے مطابق تیسرا مکا ن پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے، بہرحال ، زکوٰۃ پہلے دو مکانوں پر کس حساب سے لاگو ہوگی؟ کیا زکوٰۃ مکانوں کی اصل قدر وقیمت پر لاگو ہوگی؟ یا کرائے کی آمدنی پر؟ اگر اس شخص نے سرمایہ کاری کی غرض سے لیا ہوا مکان یا کرائے پر دیا ہو امکان فروخت کردیا ہے، تو کیا اس پر زکوٰۃ دینی ہوگی، اور اگر ینی ہوگی تو کس حساب سے دینی ہوگی؟
واضح ہو کہ سرمایہ کاری کرنے یا تجارت کی غرض سے خریدے گئے مکان یا دکان وغیرہ مال تجارت میں شامل ہیں، اور بوقت ادائیگی زکوٰۃ ان کی موجودہ مالیت پر زکوٰۃ لازم ہے، نہ کہ قیمت خرید وغیرہ پر، البتہ جو مکان ذاتی ضرورت سے خریدا ہو اگرچہ اسے کرایہ پر بھی دیدیا گیا ہو، اس کی مالیت پر زکوٰۃ نہیں، بلکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ہے، جسے بوقت ادائیگی دیگر اموال زکوٰۃ کے ساتھ شامل کر کے کل مجموعہ کا چالیسواں حصہ بطور زکوٰۃ فقراء ومساکین وغیرہ کو ادا کرنا لازم ہے۔
کما فی الھندیة: الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا الخ (1/179)۔