سوال ١ : کیا اس نیت سے تھوڑا تھوڑا سونا خریدنا جو کہ چند سالوں کے بعد میرے بچوں کی تعلیم کے لئے استعمال ہو، کیا ایسے سونے پر بھی زکوۃ دینا ہوگی. کیوں کہ پہلے دن سے ہی نیت اسے اپنی اولاد کے استعمال کے لئے مختص کرنا ہے.
سوال ٢ : کیا اس نیت سے تھوڑا تھوڑا سونا خریدنا جو کہ چند سالوں کے بعد اپنا ذاتی گھر بنانے میں خرچ دیں کیا اس پر بھی زکوۃ دینا ہوگی.
سوال ٣ : میری بیوی کو جو میری طرف سے اور میرے ماں باپ کی طرف سے شادی کے وقت میں جو سونا دیا گیا جو کہ تقریبا ٩ تولہ سے بھی زیادہ ہے، –اور تقریباً چھ / سات سال سے وہ سارا سونا میری بیوی کے ماں باپ نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے، کافی دفعہ کہنے کے بعد بھی انکے قبضے میں ہی ہے،جو مجھے واپس نہ کیا گیا ' اس سونے میں سے تھوڑا بہت میری بیوی کبھی کبھار اپنے استعمال میں کر لیتی ہے، کیا اس سونے کی زکوۃ میرے پر ہے مجھے ادا کرنی ہے ؟ ، یا میری بیوی پر ہے یا میری بیوی کے ماں باپ پر جن کے قبضے میں ہے. یاد رہے کہ یہ سونا نہ تو حق مہر معجل اور نہ ہی غیر معجل اور نہ ہی کسی اور شرط کے سبب یا اسکے بدلے میں دیا گیا ہے-( حق مہر معجل اور غیر معجل سب کیش کی صورت میں تھا جو شادی کے وقت ہی سارا ادا کیا گیا.) یہ سونا جو عام طور پر شادی میں لڑکی کو دیا گیا اسی طرح میری بیوی کو بھی دیا گیا. شروع کے چند سال تو میں یہی سمجھتا رہا کہ اس کا مالک میں ہوں اور میں نے ہی زکوۃ دینی ہے، اور تقریبن ٢ سال تک میں نے ہی زکوۃ ادا کی کیوں کہ میری بیوی کی کوئی کمائی اور ذریعہ معاش نہیں ہے. لیکن اب چونکہ پچھلے چند سالوں سے جب یہ سونا میرے پاس ہے ہی نہیں اور نہ ہی میری بیوی کے پاس ، تو میں نے زکوۃ ادا نہیں کی. اس پر شریعت سے رہنمائی فرمائیں . اور اب کی موجودہ صورت حال تو یہ ہے کہ میں نے تو پوچھنا ہی بند کردیا کہ اس سونے میں سے کتنا سونا ابھی بھی ہے یا بیچ کر کھا پی لیا ہے-
سوال ٤ : ضمنا یہ بھی سوال ہے کہ اگر بیوی کی کوئی کمائی اور ذریعہ معاش نہ ہو اور اس پر زکوۃ دینا بھی لازم ہو، تو وہ کیسے ادا کرے ، یا اسکے شوہر پر لازم اور ضروری ہے کہ وہ اپنی بیوی کی طرف سے ادا کرے.
سوال ٥ : کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ تمہاری بیوی تمہاری ذمہ داری ہے، تم نے ہی اسکی زکوۃ بھی ادا کرنی ہے، میں نے ان سے کہا کہ بیوی کی ضرویات زندگی پوری کرنا تو سمجھ میں آتا ہے،اور الحمدللّہٰ اپنی حیثیت کے مطابق پوری بھی کر رہا ہوں – لیکن زکوۃ اسکی ' تو میں کیوں دوں ؟ کیا شریعت مجھے اس پر پابند کرتی ہے کہ اپنی زکوۃ کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی کی بھی ادا کروں ؟؟ اور مجھے تو آج تک یہ بھی نہیں پتا کہ بیوی کے ماں باپ نے کیا کچھ اسکے نام پر لگا رکھا ہے، ؟
جزاک الله .
واضح ہو کہ وہ سونا جو سائل نے اپنے نابا لغ بچوں کے لئے خرید کر ان کے لئے مختص کر کے ان کی طرف سے قبضہ کے بعد اپنی ملکیت سے علیحدہ کردیا ہو، سونے کی وہ مقدار چونکہ بچوں کی ملکیت کہلائی گی ،اور بچوں پر زکوۃ لازم نہیں ہوتی ،اسلئے اس سونے کی زکوۃ دینی بھی لازم نہ ہو گی ، البتہ اگر سائل نے وہ سونا بچوں کے نام نہ کیا ہو بلکہ اسے اپنی ملکیت میں رکھ کر مستقبل میں بچوں کی تعلیم کے لئے فروخت کر نے کا ارادہ کیا ہو ، اسی طرح وہ سونا جو گھر کی خریداری کی نیت سے اپنے پاس جمع کر رکھا ہو ، اس تمام سونے کی زکوۃ سائل پر لازم ہو گی ۔ جبکہ بیوی کے والدین کے پاس موجود سونا اگر شادی کے موقع پر بیوی کو بطور گفٹ ملکیتاً دیا گیا ہو تو شرعاً اس سونے کی مالک بیوی ہی کہلائی گی اور اس کی زکوۃ بھی اسی کے ذمہ لازم ہو گی ، البتہ شوہر بطور تبرع واحسان اس کی جانب سے وکیل بن کر زکوۃ ادا کر دے تو یہ زکوۃ شرعاً ادا ہو جائیگی اور شوہر کو اس کا ثواب بھی ملے گا تاہم شوہر کےذمہ اس کی ادائیگی لازم نہیں ۔اسی طرح اگرشوہر کےلئے اس کی ادائیگی مشکل ہو تو پھر عو رت کو اپنے او پر لازم ہو نے والی زکوۃ خود سے ادا کرنے کی پابندی کرنی ہو گی، اور اس میں کوتا ہی کی وجہ سے وہ گنہگا ر ہو گی ۔
کمافی حاشية ابن العابدين: ان الزکاۃ تجب فی النقدکیف ما امسکہ للنماء او للنفقۃ ،الخ( كتاب الزكاة،ج:3 ص :262 ناشر سعید )
وفیہ ایضا: ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي،الخ (كتاب الزكاة،ج:3 ص :262 ناشر :سعید)
وفي تبيين الحقائق:(وشرط وجوبها العقل والبلوغ والإسلام والحرية، وملك نصاب حولي فارغ عن الدين وحاجته الأصلية نام، ولو تقديرا)،الخ(شروط وجوبہا ، ج: 1 ص:252 ناشر:المطبعۃ الکبری الامیریۃ)
وفی بدائع الصنائع: ان الزکاۃ عبادۃ عندنا والعبادۃ لاتتادی الا باختیار من علیہ اما بمباشرتہ بنفسہاو بامرہ او انابتہ غیرہ فیقوم النائب مقامہ فیصیر مأدیا بید النائب الخ ( فصل زكاة الزوع والثمار، ج: 2 ص: 53 ناشر سعید)
وفی الھدایۃ :تجب فی کل مائتی درھم خمسۃ درھم وفی کل عشرین مثقال ذھب نصف مثقال مضروبا کان او لم یکن مصوغا او غیر مصوغ حلیا کان للرجال او للنساء الخ ( الباب الثالث فی زکاۃ الذھب ج:1 ص: 53 ناشر قدیمی)