السلام علیکم! میرے پاس تقریباً5.84تولہ سونا ہے ،اس کے علاوہ کبھی چند ہزار کیش ہوتا ہے، کبھی کچھ بھی نہیں ہوتا بس یہی سونا ہے ،تو اس کے لیے زکوۃ کا کیا حکم ہے ؟کیونکہ آج کل کے دور میں چاندی کی قیمت تو کچھ بھی نہیں ہے تھوڑے سے سونے کی قیمت میں ہی باون تولہ چاندی لی جاسکتی ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کی ملکیت میں 5.84 تولہ سونے کے ساتھ چاندی، نقدی اور مال تجارت اور کیش رقم میں سے اگر کچھ بھی موجود ہو، تو چونکہ دونوں کا مجموعہ ساڑے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچتا ہے ،اس لیے جس وقت سے سائل کی ملکیت میں دونوں چیزیں (سونا اور نقدی)آئی ہیں، اسی وقت سے سائل صاحبِ نصاب بن چکا ہے، چنانچہ قمری سال پورا ہونے پر اگر سائل کی ملکیت میں یہ دونوں اشیاء موجود رہیں ،تب تو سائل کے ذمہ دونوں کی مجموعی مالیت کے مطابق ڈھائی فیصد زکوۃ دینا لازم ہو گا ،لیکن اگر اس وقت فقط مذکور مقدار میں سونا موجود ہے، اس کے ساتھ نقدی بالکل موجود نہ ہو تو پھر سائل کے ذمہ زکوۃ لازم نہ ہو گی۔
کما فی الدر المختار:فی حدیث” ھاتو ربع عشر اموالکم“فإن المراد بہ غیر السائمۃ لأن زکاتھا غیر مقدرۃ بہ(نصاب الذھب عشرون مثقالا و الفضۃ مائتا درھم کل عشرۃ الخ
و فی الشامیۃ تحت: (قولہ عشرون مثقالا)ما دون ذلك لا زكاة فيه ولو كان نقصانا يسيرا يدخل بين الوزنين لأنه وقع الشك في كمال النصاب فلا حكم بكماله مع الشك بحر عن البدائع الخ ( 2/ 295)۔
وفى الدر أیضا: (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه الخ (2/ 267)۔
وفی المبسوط للسرخسي: (قال) وليس في أقل من عشرين مثقالا من الذهب زكاة لحديث عمرو بن حزم قال: فيه «، وفي الذهب ما لم تبلغ قيمته مائتي درهم فلا صدقة فيه» والدينار كان مقوما بعشرة دراهم على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فذلك تنصيص على أنه لا شيء في الذهب حتى يبلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال الخ(2/ 190)۔