زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ کے فنڈ کی منتقلی پر آنے والے اخراجات زکوۃ سے پورے کرنا

فتوی نمبر :
87881
| تاریخ :
2025-10-16
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ کے فنڈ کی منتقلی پر آنے والے اخراجات زکوۃ سے پورے کرنا

قدیم ادوار میں زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم ایک مسلم امیر یا سلطان کی نگرانی میں انجام دی جاتی تھی، اور انتظامی، نقل و حمل، اور تقسیم کے اخراجات بھی اسی ریاستی نظام کے تحت پورے کیے جاتے تھے۔جدید دور میں کسی مرکزی اسلامی اقتدار کے فقدان کے باعث یہ ذمہ داری عملاً آزاد خیراتی اداروں پر منتقل ہو گئی ہے۔ یہ ادارے اب مختلف ممالک اور خطّوں میں بیک وقت بڑے پیمانے پر زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کا کام انجام دیتے ہیں۔خصوصاً برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں بہت سے ادارے ہر سال دسیوں ملین پاؤنڈ (تقریباً 100 تا 500 کروڑ بھارتی روپے) کی زکوٰۃ کی رقم کا انتظام کرتے ہیں۔ ان کا کام بینکاری کے جدید نظام، بین الاقوامی ترسیلات، قانونی تقاضوں، اور بڑے پیمانے پر عملے کے ذریعے تصدیق، لاجسٹکس، اور امدادی ترسیل کے پیچیدہ مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ان زمینی حقائق کی بنا پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عالمی خیراتی تناظر میں فقہِ حنفی کے اصولوں کو درست طور پر کس طرح نافذ کیا جائے۔ اسی سلسلے میں ہم درجِ ذیل عملی امور پر شرعی رہنمائی کے خواہاں ہیں:
1. زکوٰۃ کی ترسیل اور انتظامی اخراجات
- کیا زکوٰۃ کو مستحقین تک پہنچانے کے لئے درکار اخراجات، جیسے تصدیق، رقم کی منتقلی، لاجسٹکس، اور ضروری انتظامی امور، زکوٰۃ ہی کے فنڈ سے پورے کیے جا سکتے ہیں؟اگر اس کی اجازت ہے تو اسے شرعی اعتبار سے کس مد میں شمار کیا جائے گا؟
عملی مثالیں:
- ایک برطانوی عطیہ دہندہ £100 کی زکوٰۃ ڈیبٹ کارڈ سے دیتا ہے، اور پیمنٹ پراسیسر £2 بطور فیس کاٹ لیتا ہے۔ کیا یہ £2 زکوٰۃ میں سے منہا کیے جا سکتے ہیں؟
- ایک خیراتی ادارہ زکوٰۃ کی رقم بھارت منتقل کرتا ہے، اور واسطہ بینک £30 بطور بین الاقوامی ترسیلی فیس وصول کرتا ہے۔ کیا یہ فیس زکوٰۃ فنڈ سے ادا کی جا سکتی ہے؟
2. عملے کی اجرت اور انتظامی اخراجات
- کیا ادارے کے عملے کو "عاملین علیہا" کے زمرے میں شمار کر کے ان کی تنخواہیں زکوٰۃ سے دی جا سکتی ہیں؟
- اگر ایک ٹیم مستحقین کی تصدیق کرتی ہے، سامان خریدتی ہے، اور تقسیم کا انتظام کرتی ہے، اور ان کے براہِ راست اخراجات (جیسے عملے کا وقت، نقل و حمل، گودام وغیرہ) کل زکوٰۃ فنڈ کا 5 تا 10 فیصد بنتے ہیں ،تو کیا یہ اخراجات زکوٰۃ سے پورے کیے جا سکتے ہیں؟
- اگر اس کی اجازت ہو تو کس حد تک، اور کن شرعی شرائط کے ساتھ؟
- کیا زکوٰۃ فنڈ سے ایک مقرَّرہ فیصد (مثلاً 10%) انتظامی اخراجات کے لئے مختص کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر جب حقیقی اخراجات میں کمی بیشی ہوتی رہے؟
3. اخراجات میں کفایت شعاری اور اعتماد کی ترجیح
- اگر زکوٰۃ کے پیسے سے مستحقین کے لئے سامان خریدا جا رہا ہو، اور ایک چیز سستی ہے مگر معیار یا بھروسا کم ہے، جبکہ دوسری چیز تھوڑی مہنگی ہے مگر اچھی اور قابلِ اعتماد ہے، تو ایسی صورت میں خریداری کے بارے میں کون سے شرعی اصول لاگو ہوتے ہیں؟
- اگر دو دکاندار چاول فروخت کرتے ہیں ، ایک سستا لیکن غیر معتبر، دوسرا کچھ مہنگا مگر قابلِ اعتماد ،تو کیا ادارہ زیادہ معتبر دکاندار سے خریداری کر سکتا ہے تاکہ سامان یقینی طور پر مستحقین تک پہنچ جائے؟
4. مدارس کے طرزِ عمل سے رہنمائی
ہم یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ مدارس زکوٰۃ کے استعمال میں اس نوعیت کے شرعی و انتظامی مسائل کو کس طرح حل کرتے ہیں؟
مثال:
برطانیہ کا ایک خیراتی ادارہ ایک مدرسے کو £20,000 زکوٰۃ کے طور پر بھیجتا ہے۔
- خوراک، تقسیم، عملے کی تنخواہوں، اور بجلی کے اخراجات کس طرح پورے کیے جاتے ہیں؟
- اگر کھانا زکوٰۃ سے خریدا جاتا ہے تو نقل و حمل، مزدوری، اور ترسیل کے اخراجات کہاں سے پورے کیے جاتے ہیں؟
- کیا یہ اخراجات زکوٰۃ ہی سے ادا کیے جاتے ہیں، یا الگ للّٰہ یا صدقہ کے فنڈ سے؟
- کیا مدرسے کے لئے یہ لازم ہے کہ زکوٰۃ، صدقہ اور للّٰہ کے فنڈز کو الگ الگ محفوظ اور استعمال کیا جائے، یا ان مختلف مدات کے فنڈز کو ایک ساتھ ملا کر رکھا جا سکتا ہے؟
- کیا مدارس کے لئے وکالت (وَکالہ) کا معاہدہ ضروری ہے ؟ مثلاً مستحق طلبہ اور مدرسے کے درمیان، یا عطیہ دہندگان اور مدرسے کے درمیان؟



الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(2-1) سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہئیے کہ عاملین سے وہ لوگ مراد ہوتے ہیں جن کو مسلم حاکم لوگوں کے ان اموال سے زکوٰۃ وصولی کے لئے مقرر کرتا ہے کہ جن اموال سے زکوٰۃ کی وصولی حاکم کا حق ہوتا ہے ۔مثال کے طور پر مویشی اور وہ اموالِ تجارت جو شارع عام کے ذریعے ایک شہر سے دوسرے شہر لے جائے جا رہے ہوں یعنی اموالِ ظاہرہ سے زکوٰۃ وصول کرنا امام اور حاکم کا حق ہے۔ لہٰذا آزاد خیراتی ادارے کا کام کرنے والے عاملین کے زمرے میں نہیں آتے بلکہ وہ زکوٰۃ دہندگان کے وکیل ہوتے ہیں ۔چنانچہ خیراتی ادارے کی حیثیت بھی ایک وکیل کی ہوئی ۔اس کےساتھ ساتھ واضح ہو کہ زکوٰۃ کی تعریف میں تملیکِ مستحق بنیادی چیز ہے جبکہ زکوٰۃ کی رقم سے مختلف قسم کے اخراجات کی ادائیگی میں تملیکِ مستحق نہیں پائی جاتی اس لئے اخراجات میں صرف شدہ مقدار کے بقدر زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی چنانچہ اصل مالک بھی ترسیلات وغیرہ کے اضافی اخراجات زکوٰۃ میں شمار نہیں کر سکتا تو اس کے وکیل کے لئے بھی اس کی اجازت نہیں ہوگی۔
لہٰذا ترسیل وغیرہ کے ان اخراجات کو پورا کرنے کے لئے اگر زکوٰۃ دہندگان کو بتایا جائے کہ آپ کی زکوٰۃ کی ترسیل پر اتنا خرچہ آئے گا اور پھر ان سے وہ اضافی رقم وصول کی جائے یا ادارہ جن لوگوں کو زکوٰۃ کی رقم بھیجنا چاہتا ہے ان کی تعیین کرے اور ان کی وکالت کرتے ہوئے ان کو بتا دے کہ آپ کو اس رقم کی وصولی پر اتنا خرچہ آئے گا جو ہم آپ سے وصول کریں گے۔ لہٰذا انہی طریقوں سےسائل کے بیان کردہ اخراجات کو پورا کیا جاسکتا ہے، جبکہ سوال میں مذکور دیگر طریقوں سے احتراز چاہئیے۔
(3) جس درجے کی چیز خریدی جائے گی اسی کی مالیات کے بقدر زکوٰۃ ادا ہوگی جبکہ اعتدال والی صورت اختیار کی جائے تاکہ مستحقین کی زیادہ سے زیادہ ضرورت پوری ہو سکے۔
(4)عمومی طور پر مدارس والے داخلہ لینے والے طلبہ کی اجازت سے ان کے وکیل بن جاتے ہیں اور ان سے کلی اختیار لیتے ہیں کہ انتظامیہ زکوٰۃ کی رقم جیسے چاہیں اور جہاں چاہیں خرچ کریں گے چنانچہ طلبہ کے جانب سے توکیل کے بعد وہ تعمیرات، تنخواہوں اور دیگر ضروریات میں زکوۃ کی مد سے حاصل شدہ رقوم خرچ کرتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی الفتاوی التاتار خانیة: وأما العاملون فہم الذین نصبہم الإمام لاستیفاء صدقات المواشی، فیعطیہم مما فی یدہ من مال الصدقۃ ما یکفیہم وعیالہم الخ (کتاب الزکاۃ الفصل الثامن من توضع فیه الزکاۃ ج2 ص268 ط: رشیدیة)۔
و فی الفتاوی الہندیۃ: و تعتبر نية المؤكل في الزكوة دون الوكيل الخ(كتاب الزكوة، ١/ ١٧١، ط: رشيدية)۔
و فی مجمع الأنہر:وعلی الإمام أن یجعل لکل نوع بیتًا یخصه ولا یخلط بعضه ببعض فإن لم یوجد في بعضها شیئ فللإمام أن یستقرض عليه من النوع الاٰخر ویصرفه إلی اهل ذلک، ثم إذا حصل من ذلک النوع شئ رده إلی المستقرض منه إلا أن یکون المصرف من الصدقات أو من خمس الغنائم علی اهل الخراج، وهم فقراء فإنه لا یرد فيه شیئًا، وکذا في غیره إذا صرفه إلی المستحق، ویجب علی الإمام أن یتق اﷲ ویصرف إلی کل مستحق قدر حاجته من غیر زیادة الخ (کتاب السیر والجہاد ج2 ص486 ط: دار الکتب)۔
و فی الدر المختار: لأن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره والظاهر نعم الخ وفی الشامية (قوله ثم يأمره إلخ) ويكون له ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب بحر وفي التعبير بثم إشارة إلى أنه لو أمره أولا لا يجزئ؛ لأنه يكون وكيلا عنه في ذلك وفيه نظر؛ لأن المعتبر نية الدافع ولذا جازت وإن سماها قرضا أو هبة في الأصح كما قدمناه فافهم الخ (باب مصرف الزكوة ج2 ص345 ط: سعید)۔
و فی الفتاویٰ الہندیۃ: فهي ‌تمليك ‌المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى(كتاب الزكاة ج1 ص170 ط: رشیدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87881کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات