کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بہن کی شادی ہوئی چند ہی مہینوں میں سسرالیوں کی جانب سے ظلم و ستم کی داستان شروع ہوئی، معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرانے کے باوجود حل نہ ہوا، اور بات علیحد گی تک پہنچی، طلاق کے بعد ہم نے جہیز کے سامان کا مطالبہ کیا، لڑکے والے مستقل ٹال مٹول کرتے رہے، ہم خود ان کے گھر گئے اور سامان کا مطالبہ کیا تو خاندان کے ایک شخص کا حوالہ دیا کہ سامان ان کے پاس امانت ہے ، اور سامان ہمیں موصول نہیں ہوا، اس درمیان ڈھائی سال کا عرصہ گزر گیا پھر ہم نے مطالبہ کیا کہ ہمارے سامان کی قیمت ہمیں دی جائے، کیونکہ مذکور سامان توڑ پھوڑ کا شکار ہو گیا ہے، تو فوراً خود سامان لا کر ہمارے گھر کے سامنے پھینک کر چلے گئے، وہی سامان ہم نے ان کو واپس کرایا کہ کچھ سامان خراب ہے اور کچھ غائب ہے۔ اب چھ (6) سال کے عرصہ کے بعد ہم سے اپنے سامان لینے کہ کہہ رہے ہیں، شرعی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آیا ہم اس سامان کی قیمت لینے کے حق دار ہیں یا نہیں؟ راہ نمائی فرمائیں۔
سائل کی بہن کو والد کی طرف سے جو جہیز کا سامان ملا ہے، شرعاً وہ لڑکی کی ملکیت ہے، لہذا علیحدگی کے بعد اس کا لڑکی کو حوالہ کرنا شرعاً لازم تھا، سسرالیوں کا بلا وجہ اس کو روکنا اور سپردگی میں ٹال مٹول سے کام لینا جائز نہیں، جس کی وجہ سے وہ گنہگار ہو رہے ہیں، ان پر لازم ہے کہ فوراً اس کو اس کا سامان واپس کردے اور اب تک سامان روکنے میں جو خرابی ہوئی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے جو نقصان ہوا ہے ، لڑکی اس کے بقدر قیمت کا مطالبہ کا حق بھی رکھتی ہے، اور اگر کوئی چیز گم یا ضائع ہو گئی ہو تو وہ اس کی پوری قیمت لینے کی بھی مجاز ہے۔
كما في الدر المختار: (جهز ابنته بجهاز وسلمها ذلك ليس له الاسترداد منها اھ (3/ 155)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: جـ ـ أن يكون النقص بسبب فوات معنى مرغوب فيه في العين، مثل الشيخوخة بعد الشباب، والهرب، ونسيان الحرفة، فيجب ضمان النقص في كل الأحوال. (6/ 4811)۔