محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته!ہمارے علاقے میں یہ معمول ہے کہ جب کسی کا انتقال ہو جاتا ہے تو نمازِ جنازہ کے بعد میت کے ورثاء کی جانب سے اعلان کیا جاتا ہے کہ مستحق، فقیر اور غریب افراد بیٹھ جائیں۔ اس کے بعد ان میں نقد رقم تقسیم کی جاتی ہے، اور اس عمل کو یہاں مقامی طور پر "سخاط" کہا جاتا ہے،اسی طرح جنازے کے اگلے روز صبح کے وقت محلے کے لوگ مسجد میں جمع ہوتے ہیں، جہاں متعدد حفاظ کرام باری باری قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ ہر تلاوت کے بعد دعا کی جاتی ہے، اور یہ سلسلہ تقریباً تین سے چار گھنٹے جاری رہتا ہے۔ آخر میں ایک طویل اجتماعی دعا کی جاتی ہے، اور پھر تمام حاضرین کو ناشتہ کروایا جاتا ہے۔ اس عمل کو یہاں "دعاخوانی" کہا جاتا ہے،یہ دونوں اعمال (سخاط اور دعاخوانی) ایصالِ ثواب کی نیت سے کیے جاتے ہیں اور اب یہ ہمارے علاقے کی روایت بن چکے ہیں، گویا ہر جنازے کے ساتھ لازم سمجھے جاتے ہیں،آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ ان دونوں اعمال کے متعلق قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں مفصل شرعی حکم ارشاد فرمائیں:1. کیا یہ ایصالِ ثواب کے مشروع و مسنون طریقوں میں شامل ہیں؟2. کیا ان میں بدعت یا غلو کا کوئی پہلو پایا جاتا ہے؟3. ایسے اعمال کو علاقائی رواج یا لازم تصور کرنا شرعاً کیسا ہے؟
واضح ہوکہ کسی دن اور وقت کی تعیین کے بغیر میت کے عاقل و بالغ عزیز و اقارب کی طرف سے اپنی استطاعت کے مطابق اپنی مرضی و خوشی سےذاتی مال سے میت کےایصالِ ثواب کیلیے کھانا تیار کر کے لوگوں کو کھلانا تو جائز اور درست ہے ، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ثواب میت تک پہنچائے ، اور اس طرح تیار کیا گیا کھانا اہلِ خانہ، فقراء ، مساکین اور مالدارسب لوگ کھا سکتے ہیں، لیکن ایصال ثواب کے لئے باقاعدہ مخصوص ایام کی تعیین کرنا ، یا اس کے لیے دعوت کے اہتمام کو ضروری اور لازم سمجھنا اور دعوت نہ کرنے والوں کو تنقید و ملامت کا نشانہ بنانا ، یا تمام ورثاء کی اجازت و رضامندی کے بغیر یا ورثاء میں سے نابالغ افراد کی موجود گی میں میت کے ترکہ سے صدقہ و خیرات کرنا ، اس رقم کی تقسیم کو لازم سمجھنا ،یا نام و نمود کیلیے دعوت کا اہتمام کرنا ، یہ تمام وہ امور ہیں جو کہ شرعاً ناجائز اور واجب الترک ہیں، لہٰذا سوال میں مذکور دونوں امور شرعاً بدعت کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، اس لیے علاقہ کے اہلِ علم حضرات کو چاہیے کہ حکمت کے ساتھ ان امور کو ختم کرنے کا اہتمام کریں۔
کما فی مشکاۃالمصابیح: وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أما بعد فإن خير الحديث كتاب الله وخير الهدي هدي محمد وشر الأمور محدثاتها وكل بدعة ضلالة» . رواه مسلم (کتاب الاعتصمام بالکتاب،ص:،مط:قدیمی کتب خانہ)
وفی رد المختار: وقال أيضا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. وفيها من كتاب الاستحسان: وإن اتخذ طعاما للفقراء كان حسنا اهـ وأطال في ذلك في المعراج. وقال: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى. اهـ. وبحث هنا في شرح المنية بمعارضة حديث جرير المار بحديث آخر فيه «أنه عليه الصلاة والسلام دعته امرأة رجل ميت لما رجع من دفنه فجاء وجيء بالطعام» . أقول: وفيه نظر، فإنه واقعة حال لا عموم لها مع احتمال سبب خاص، بخلاف ما في حديث جرير. على أنه بحث في المنقول في مذهبنا ومذهب غيرنا كالشافعية والحنابلة استدلالا بحديث جرير المذكور على الكراهة، ولا سيما إذا كان في الورثة صغار أو غائب، مع قطع النظر عما يحصل عند ذلك غالبا من المنكرات الكثيرة كإيقاد الشموع والقناديل التي توجد في الأفراح، وكدق الطبول، والغناء بالأصوات الحسان، واجتماع النساء والمردان، وأخذ الأجرة على الذكر وقراءة القرآن، وغير ذلك مما هو مشاهد في هذه الأزمان، وما كان كذلك فلا شك في حرمته وبطلان الوصية به، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم)مطلب کراھیۃ الضیافۃ من اھل المیت،ج:2،ص:240،مط:سعد )
وفیہ ایضاََ: وبه ظهر حال وصايا أهل زماننا، فإن الواحد منهم يكون في ذمته صلوات كثيرة وغيرها من زكاة وأضاح وأيمان ويوصي لذلك بدراهم يسيرة، ويجعل معظم وصيته لقراءة الختمات والتهاليل التي نص علماؤنا على عدم صحة الوصية بها، وأن القراءة لشيء من الدنيا لا تجوز، وأن الآخذ والمعطي آثمان لأن ذلك يشبه الاستئجار على القراءة، ونفس الاستئجار عليها لا يجوز،الخ(مطلب فی بطلان الوصیۃ بالختمات والتھالیل،ج:2،ص:73،مط:سعید)
و فی البحرالرائق: وأما المبتدع فهو صاحب البدعة وهي كما في المغرب اسم من ابتدع الأمر إذا ابتدأه وأحدثه كالرفقة من الارتفاق والخلفة من الاختلاف ثم غلبت على ما هو زيادة في الدين أو نقصان منه اهـ.وعرفها الشمني بأنها ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان وجعل دينا قويما وصراطا مستقيما اهـ. (باب الامامہ،ج:1،ص:349،مط:رشیدیہ)
وفي حاشية الحطحاوي علي مراقى الفلاح: قوله: "بدعة" أي قبيحة كالمسمى بالكفارة ذكر ابن الحاج في المدخل في الجزء الثاني إن من البدع القبيحة ما يحمل أمام الجنازة من الخبز والخرفان ويسمون ذلك عشاء القبر فإذا وصلوا إليه ذبحوا ذلك بعد الدفن وفرقوه مع الخبز وذكر مثله المناوي في شرح الأربعين في حديث من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد قال ويسمون ذلك بالكفارة فإنه بدعة مذمومة اهـ (كتاب الصلاة،ص:٦٠٦،ط:رشيديه)