ہم دسمبر میں کلوزنگ کرتے ہیں جو کہ ہماری مارکیٹ کا دستور ہے لیکن کچھ جگہوں پہ ہم نے پڑھا کہ کلوزنگ جو ہے وہ اسلامی مہینوں کے حساب سے کرنی چاہیے، تو ہم نے کوشش کی لیکن اس کی وجہ سے ہماری کلوزنگ ہی رہ گئی اور ہمیں حساب بنانے میں پریشانی ہوئی تو کیا فرماتے ہیں علماء اس معاملے میں کہ زکوۃ کا حساب اگر دسمبر ٹو دسمبر کر لیا جائے تو اس میں کوئی حرج ہے یا کیا معاملات ہیں ؟
شکریہ
اصل حکم تو یہ ہے کہ زکوۃ کی ادائیگی میں قمری سال کا اعتبار ہے، لیکن اگر کسی مشکل کی وجہ سے اس پر عمل کرنے میں حرج لازم آئے تو شمسی سال کے اعتبار سے بھی زکوۃ ادا کی جاسکتی ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ اول کل مال(سرمایہ اور منافع )کا محتاط اندازے کے مطابق تخمینہ لگایا جائے اور اس کے بعد شمسی اورقمری مہینوں میں جو فرق ہے،اس کے حساب سے زائد مقدار زکوۃ کی دی جائےاور اس میں بھی احتیاط کے پیش نظر کسی قدر زائد(2.58%)دینا بہترہے۔(ماخوذازامداد الفتاوی:ج۲،ص۳۱)
لہذا،سائل کواگرمارکیٹ کے معمول سے ہٹ کر قمری ماہ کے اعتبارسے زکوۃ کاحساب لگانے میں دشواری پیش آرہی ہوتو شمسی ماہ کومدنظررکھتے ہوئے ،ماہ دسمبرسے ماہ دسمبر تک اوپرذکردہ طریقہ کے مطابق حساب کرکے زکوۃ اداکرنے کی گنجائش ہے۔
کما فی حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» : (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام)
(قوله: نسبة للحول) أي الحول القمري لا الشمسي كما سيأتي متنا قبيل زكاة المال(2/ 259)
و فی درر الحكام شرح غرر الأحكام» :(قوله: وشرطه الحولان) قال في القنية العبرة في الزكاة للحول القمري»(1/ 174)
و فی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» : (ومنها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري كذا في القنية،»(1/ 175)