سوال ہے کہ حال ہی میں میرا نکاح میری خالہ کی بیٹی سے ہوا ہے۔ دو سال سے رشتے کی بات چل رہی تھی۔ ہر موقع پر میرے والدین نے پوچھا کہ آپ کی حق مہر کے سلسلے میں کوئی ڈیمانڈ ہے تو بتا دیں۔ ہمارے خاندان میں پہلے کسی نکاح پر حق مہر معجل مبلغ 5 ہزار سے زیادہ نہیں لکھاگیا۔ بوقت نکاح بھی دلہن کے والدین نے کہا کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔ میں نے بذات خود دلہن سے پوچھا کہ حق مہر معجل کے علاوہ اور کچھ چاہیے تو اس نے بھی صاف انکار کیا ۔ نکاح خواہ نے 10 ہزار حق مہر معجل مجھ سے لے کر نکاح ایجاب قبول کروا لیا۔ اور خالی نکاح نامہ پر دستخط کروا لئے۔ اب جبکہ مجھے نکاح نامہ موصول ہوا تو اس پر حق مہر غیر معجل میں پانچ مرلہ مکان لکھا ہوا ہے۔ اب جب میں نے دلہن اور اس کے والدین سے بات کی تو وہ کہتے ہیں ہم نے نہیں لکھوایا۔ نہ ہی ہم لینا چاہتے ہیں۔لیکن مجھے لگتا ہے دلہن کے والدین نے چالاکی سے یہ حق مہر غیر معجل لکھوایا ہے۔ المختصر ایسا حق مہرغیر معجل کیا شرعاً ٹھیک ہے جس کو دلہا ودلہن کے والدین نے آپس میں طے نہ کیا ہو۔اور کسی کی رضامندی بھی شامل نہ ہو۔ بلکہ غلطی سے یا ایک فریق کی چالاکی سے لکھا گیا ہو؟
صورت مسئولہ میں فریقین نے عقد نکاح کے وقت ایجاب و قبول کرتے ہوئے جو مہر مقرر کر کے اس پر باہم رضامندی کا اظہار کیا تھا تو شرعاً وہی طے پاجانےوالا مہر سائل کے ذمہ لازم ہو گا ۔بعد میں یکطرفہ طور پر حق مہر میں اضافہ شرعاً معتبرنہیں۔ لہذا فریقین نے جب اس مقرر مہر کی مقدار پر باہم رضامندی کا اظہار کیا ہے تو انہیں چاہیےکہ وہ کاغذات میں بھی اس غلطی کودرست کرلیں تاکہ مستقبل میں اس بابت کوئی جھگراونزاع پیدا نہ ہو۔
وفی رد المختار: قولہ والا بان تراضیا علی شیء فہوو الواجب بالوطء او الموت اما لوطلقہا قبل الدخول فتجب المتعۃ کما فی قولہ وما فرض بعد العقد او زید لا یتنصف (ج:3،ص:109،ناشر سعید)
وفی البدائع الصنائع: اذا بلغت قیمتہ عشرۃ وتعتبر قیمتہ یوم العقد لا یوم التسلیم(ج:3،ص:276،ناشر:سعید)
وفی مجمع الانہر: وتعتبر قیمتہ وقت العقد فی الاصح (ج:1،ص: 346،ناشر:داراحیاءثرات العربی)