السلام علیکم! مفتی صاحب میں آئی ٹی کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں اور آپ کے سامنے سوشل میڈیا ویب سائٹس جیسے فیس بک وغیرہ کے متعلق بات رکھنا چاہتا ہوں ، میں سوچتا ہوں کہ اسلام میں ایسی ویب سائٹ کا استعمال جائز نہیں ، کیوں کہ اس میں مرد اور عورتیں ( نامحرم ) اپنی تصاویر ، خیالات ، ویڈیو آپس میں دیکھتے ہیں اور فی الحال غیر مسلموں نے اُس میں ایک گروپ بنایا ہے، جو آپ صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کے بنائے ہوئے خاکوں کو ووٹ دیا ہے، جو پروگرام 22 مئی 2010 کو منعقد ہو گا،برائے مہربانی آپ مجھے اس کے خلاف فتوی دیں تاکہ ہم آگے مسلمانوں کو بھیج سکیں اور وہ ایسی ویب سائٹ کے استعمال کرنے سے رک جائیں، کیونکہ بہت سارے مسلمان ایسی ویب سائٹ استعمال کر رہے ہیں جس سے روکنا ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔
ایسی تمام ویب سائٹس جو فحاشی و بے حیائی کی طرف مائل کرتی ہوں یا توہین پر مشتمل ہوں، اُن کا دیکھنا اور انہیں ووٹ وغیرہ دینا قطعا جائز نہیں ، مسلمانوں پر لازم ہے کہ خود بھی انہیں دیکھنے سے احتراز کریں اور حکومت وقت پر زور دے کر انہیں بند کروانے کی بھی کوشش کریں۔
كما فى مشكاة المصابيح: عن أبي سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان» . رواه مسلم اھ (3/ 1421)
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: وقيل: المعنى إنكار المعصية بالقلب أضعف مراتب الإيمان، لأنه إذا رأى منكرا معلوما من الدين بالضرورة فلم ينكره ولم يكرهه، ورضي به واستحسنه كان كافرا، ولعل الإطلاق الدال على العموم لإفادة التهديد والوعيد الشديد. (8/ 3208) والله تعالى أعلم