شفاعت

کیا آخرت میں حافظ وعالم ایسے لوگوں کی سفارش کریں گے جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو ؟

فتوی نمبر :
83896
| تاریخ :
2025-07-02
عقائد / قیامت و آخرت / شفاعت

کیا آخرت میں حافظ وعالم ایسے لوگوں کی سفارش کریں گے جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو ؟

کیا آخرت میں حافظ اور عالم دین سفارش کریں گے ایسے لوگوں کی کہ جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو گی ؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں معلوم ہے کہ حفظ کے لیے قرآن مجید نصاب ہے لیکن عالم دین بننے کے لیے کیا نصاب ہے؟دین میں کس کو عالم دین کہیں گے؟کیا کسی مدرسے میں اس کے لیے داخلہ لینا ضروری ہے یا پھر علما کی مجالس میں بیٹھنے سے اور قرآن مجید اور دیگر دینی کتب کا مطالعہ کرنے سے بھی بندہ اس فضیلت کا اہل ہو گا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

1: حافظِ قرآن اور عالمِ دین کا اللہ کی اجازت سے گناہگار مؤمنین کی شفاعت کرنا قرآن وحدیث کی نصوص صریحہ سے ثابت ہے ۔
نبی کریم ﷺکااشادمبارک ہے
" ‌يشفع ‌يوم ‌القيامة ‌ثلاثة: الأنبياء، ثم العلماء، ثم الشهداء "«سنن ابن ماجه» (2/ 1443 ت عبد الباقي)
ترجمہ: قیامت کے دن تین طرح کے لوگ شفاعت کریں گے: انبیاء، پھر علما، پھر شہداء۔
لیکن یہ بات واضح رہے کہ شفاعت اللہ کے اذن سے ہی ہو گی، اور ایسے ہی لوگوں کے حق میں ہو گی جن کی شفاعت کی اجازت دی گئی ہو۔اگر کسی پر جہنم واجب ہو چکی ہو (یعنی کفر کی حالت میں مرا ہو) تو ایسے شخص کے حق میں کوئی شفاعت قبول نہیں ہو گی۔لہذا حافظ و عالم اگر کسی گناہگار مومن کے لیے شفاعت کریں، تو امید کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرما دے۔
2: عالمِ دین" وہ شخص کہلاتا ہےجسے قرآن، حدیث، فقہ، اصول، تفسیر، عقائد، اوراس متعلقہ علوم وغیرہ پر اچھی مہارت اوردسترس حاصل ہو،جس نے یہ علوم معتبر علمائے کرام سے براہِ راست (تلمذ کی صورت میں) سیکھے ہوں اور جس کا علم دیگر اہلِ علم کے نزدیک معتبربھی ہو۔کیونکہ دینی علوم میں دقیق فہم، اجتہاد، اصول، استنباط، ناسخ و منسوخ، مواقعِ استعمال، تخصیص و تعمیم جیسے امور ہوتے ہیں جو صرف تجربہ کار علماء سے بالمشافہ سیکھنے سے حاصل ہوتے ہیں۔خود مطالعہ میں غلط فہمی کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جو گمراہی کا باعث بن سکتا ہے۔
نبی کریم ﷺکاارشادمبارک ہے
يا أيها الناس ‌إنما ‌العلم ‌بالتعلم، والفقه بالتفقه، ومن يرد الله به خيرا يفقهه في الدين، وإنما يخشى الله من عباده العلماء» المعجم الكبير للطبراني» (19/ 395)
"اے لوگو! علم حاصل کرنے ہی سے حاصل ہوتا ہے، اور فقہ (دین کی سمجھ) سیکھنے ہی سے آتی ہے، اور جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے، اور اللہ سے تو صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔"
لہذا،مدرسہ یا دینی ادارے میں داخلہ لینا فی نفسہ کوئی شرعی فریضہ نہیں، بلکہ ایک انتظامی سہولت ہے۔شرعاً جو چیز ضروری ہے وہ یہ ہے کہ"علم دین ایسے معتبر علما سے حاصل کیا جائے جو علم، تقویٰ، دیانت اور عقائدحقہ کے ساتھ قرون اولی مشہودلہابالخیر کےمنہج پر قائم ہوں، اور ان کے علم کی سند باقی علمائے کرام کے نزدیک مسلم ہو۔"اوریہ حصول یا تو مدرسے کے باقاعدہ نصاب کے ذریعہ ہوسکتاہےیا کسی اہلِ علم کے زیرِ تربیت درس و تدریس کے ذریعہ۔ اگر کوئی شخص بغیر مدرسہ میں داخلہ لیے، معتبر علما سے علم حاصل کرتا ہے، ان کی نگرانی میں پڑھتا ہے، اور منہج و مسلکِ قرون اولی مشہودلہابالخیر پر پختہ ہے تو وہ شرعی اعتبار سے "عالمِ دین" کہلا سکتا ہے۔ اورحدیث مبارکہ میں جن علماء کی بروزقیامت سفارش کی قبولیت کی بشارت کاذکرہے اس کامصداق انھی اوصاف کے حامل علماء کرام ہیں۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83896کی تصدیق کریں
0     60
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • شیعہ سے خریدے گئے جانور کی قربانی کا حکم

    یونیکوڈ   شفاعت 0
  • جمعہ کی رات یا دن کو موت کی فضیلت کا بیان

    یونیکوڈ   شفاعت 0
  • کیا آخرت میں حافظ وعالم ایسے لوگوں کی سفارش کریں گے جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو ؟

    یونیکوڈ   شفاعت 0
Related Topics متعلقه موضوعات