السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرا سوال یہ ہے کہ پاکستان میں رمضان اور عید کے چاند کے لیے کیا مقامی رویت پر عمل کرنا چاہیے یا سعودی عرب کے ساتھ روزہ اور عید کرنا جائز ہے؟اسی طرح عرفہ کا روزہ سعودی عرب کے مطابق رکھنا چاہیے یا پاکستان میں اپنی 9 ذو الحجہ کے مطابق؟برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ رمضان المبارک اور عیدین کے لئے شرعا چاند کی رویت کا اعتبار کیا گیا ہے، اور چونکہ مختلف ممالک کے مطالع مختلف ہوتے ہیں، اسی وجہ سے مشاہدہ ہے کہ کبھی ایک ملک میں چاند نظر آتا ہے اور دوسرے ملک میں نہیں آتا، جبکہ فقہاء رحمہم اللہ نے بھی اختلاف مطالع کا اعتبار کیا ہے، لہذا ہر ملک کے باشندہ پر اسی ملک کی رویت کا اعتبار کرتے ہوئے رمضان و عید و دیگر عبادات بجالانا ضروری ہے، لہذا پاکستانی شخص کے لیے سعودی عرب کی رویت کا اعتبار کرنا اور اس کے مطابق اپنی عبادات ادا کرنا درست نہیں، بلکہ ملکی سطح پر موجود کمیٹی کی رویت کے مطابق ہی روزہ رکھنے کا اہتمام ضروری ہے۔
کما فی المرقاۃ: عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہﷺ (صوموا لرؤیتہ و أفطروا لرؤیتہ فإن غم علیکم فأکملوا عدۃ شعبان ثلاثین) متفق علیہ ۔
و فی المرقاۃ تحت الحدیث: (صوموا لرؤیتہ) أی لاجل رؤیۃ الھلال فالام للتعلیل و الضمیر للھلال علی حدّ (الی قولہ) (و افطروا) أی إجعلوا عید الفطر(لرؤیتہ) أی لأجلھا أو بعدھا أو وقتھا الخ( باب رؤیۃ الھلال، ج: 4، ص: 463، ط: مکتبہ حقانیہ)۔
وفی السنن للترمذی: أخبرني كريب (أن أم الفضل بنت الحارث بعثته إلى معاوية بالشام، قال: فقدمت الشام فقضيت حاجتها واستهل علي هلال رمضان وأنا بالشام فرأينا الهلال ليلة الجمعة ثم قدمت المدينة في آخر الشهر، فسألني ابن عباس ثم ذكر الهلال فقال متى رأيتم الهلال ؟ فقلت رأيناه ليلة الجمعة فقال أأنت رأيته ليلة الجمعة ؟ فقلت رآه الناس وصاموا وصام معاوية، قال: لكن رأيناه ليلة السبت فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين يوما أو نراه، فقلت ألا تكتفي برؤية معاوية وصيامه ؟ قال: لا هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم." قال أبو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح غريب والعمل على هذا الحديث عند أهل العلم أن لكل أهل بلد رؤيتهم)۔ (باب ماجاء لکل أهل بلد رؤیتهم،ج: 1،ص: 148،ط: قدیمی)۔
و فی الدر: و(و شرط للفطر) مع العلۃ و العدالۃ ( نصاب الشھادۃ) و لفظ (اشھد) و عدم الحد فی قذف نفع العبد لکن (لا) تشترط فی عتق الأمۃ وطلاق الحرۃ (و لو کانوا ببلدۃ لا حاکم فیھا صاموا بقول ثقۃ و أفطروا بأخبار عدلین) مع العلۃ (للضرورۃ) الخ۔ (کتاب الصوم، ج:2، ص: 386، ط:سعید)۔
وفي الدر المختار: (و) قبل(بلا علة جمع عظيم يقع العلم)الشرعي وهو غلبة الظن (بخبرهم وهو مفوض إلى رأي الإمام من غير تقدير بعدد) على المذهب وفى رد تحته (قوله: وهو غلبة الظن) : لأنه العلم الموجب للعمل لا العلم بمعنى اليقين نص عليه في المنافع وغاية البيان ابن كمال ومثله في البحر عن الفتح وكذا في المعراج وقال القهستاني: فلا يشترط خبر اليقين الناشئ من التواتر كما أشير به في المضمرات لكن كلام الشرح مشير إليه اھ ومراده شرح صدر الشريعة فإنه قال الجمع العظيم جمع يقع العلم بخبرهم ويحكم العقل بعدم تواطئهم على الكذب الخ۔ (کتاب الصوم، ج:2، ص: 388، ط:سعید)۔
وفي الفتاوى التاتارخانية: يجب صوم رمضان برؤية الهلال او باستكمال شعبان ثلاثين،ولا يجوز تقليد المنجم في حسابه لا في الصوم ولا في الافطار الخ۔ (ج: 2، ص: 357،ط: دار الکتب العلمیہ)۔
وفی بدائع الصنائع: إذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا تختلف فيها المطالع فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر الخ۔ (کتاب الصوم،فصل واما شرائطها،ج:2،ص:83،ط:دار الکتب العلمية)
وفی الفتاوی التاتارخانیہ: وفی الظهيرة وعن ابن عباس انہ یعتبر فی حق کل بلدۃ رؤیة اهلها۔ وفی القدوری اذا کان بین البلدتین تفاوت لایختلف المطالع لزم حکم اهل احدی البلدتین البلدۃ الاخریٰ، فاما اذا کان تفاوت یختلف المطالع لم یلزم حکم احدی البلدتین البللدۃ الاخریٰ الخ۔(کتاب الصوم، الفصل الثانی رؤية الهلال،ج:3،ص:365،ط:مکتبه زکریا،دیوبند)۔