زکوۃ و نصاب زکوۃ

اسقاطِ زکوٰٰٰۃ کا حیلہ اختیار کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
82944
| تاریخ :
2025-05-22
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

اسقاطِ زکوٰٰٰۃ کا حیلہ اختیار کرنے کا حکم

مفتی صاحب ! دو مسئلے معلوم کرنے ہیں ،پہلا یہ میری بیوی کے پاس دو تولہ سونا اور ایک انگوٹھی چاندی کی ہے ،جب دو تولہ کے ساتھ چاندی کی انگوٹھی ہو تو زکوٰۃ سال بعد لازم ہوتی ہے ،
پچھلے سال کی زکوٰ ۃ ہم نے ادا کردی میری بیوی نے چاندی کی انگوٹھی مجھے ہبہ کردی انگوٹھی میری ملکیت ہے۔مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا میں اپنی بیوی کو اجازت دے سکتا ہوں کہ انگوٹھی ملکیت تو میری ہی ہے ،مگر تم اس کو استعمال کرواور پہنے رکھو، کیا اس طرح اس پر زکوٰۃ لازم آئے گی ؟
اور دوسرا یہ کہ میری بیوی وتر کی نماز کے تیسری رکعت میں فاتحہ نہیں پڑھتی تھی بلکہ جیسے ہی دوسری رکعت کے قاعدہ سے اٹھتی تو الحمد پڑھے بغیر سورت پڑھتی اور سورت کے بعد دعاءِ قنوت، البتہ باقی سب رکعتوں میں فاتحہ پڑھتی تھی ۔اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا وہ نمازیں ہوگئی ہیں یا ان کی قضا کرے؟ میں نے کئی مفتیوں سے مسئلہ پوچھا مگر مختلف جوابات ملے، ایک مفتی نے کہا کہ چونکہ فاتحہ واجب ہے اور اس کے رہ جانے سے نماز نہیں ہوتی تو قضا کرنا ضروری ہے۔ ایک دوسرے مفتی نے فرمایا کہ نماز میں کوئی واجب اگر رہ جاۓ تو سجدۂ سہو سے اس کی تلافی ہوجاتی ہے اگر سجدۂ سہو کرنا بھی بھول گیا اور نماز کے وقت کے اندر آپ کو یاد آجائے کہ فلانا واجب رہ گیا ہے تو اب اس نماز کو دوبارہ پڑھنا ہوگا لیکن اگر وقت گزر گیا اور بعد میں معلوم ہوجائے کہ واجب رہ گیا ہے تو اس نماز کی قضا کی ادائیگی ضروری نہیں۔ براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ ہم کیا کریں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اسقاطِ زکوۃ کے حیلے کے طور پر سائل کی بیوی کا انگوٹھی کو اپنے ملکیت سے نکالنے کے لئے سائل کو ہبہ کرنا شرعا ً نامناسب اور مکروہ ہے، لہذا بہتر یہ ہے کہ وہ اس انگوٹھی کو فروخت کر دے یا پھر ہبہ کرنے کے بعد اس کا استعمال ترک کر دے ،تاکہ مذکور ہبہ اسقاط زکوۃ کا حیلہ معلوم نہ ہو، اس کے بعد اگر سائل کی بیوی کی ملکیت میں مذکوردو تولہ سونے کے علاوہ نقدی ، چاندی یا مالِ تجارت میں سے کچھ بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں نصاب مکمل نہ ہونے کی وجہ سے سائل کی بیوی پر زکوٰۃ لازم نہ ہو گی ۔ورنہ معمولی نقدی ہونے کی صورت میں بھی چونکہ چاندی کا نصاب مکمل ہو جائے گا اس لئے اس پر زکوۃ لازم ہوگی ۔
2۔ فرض نمازوں کے علاوہ باقی تمام نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعتوں میں مطلقاً تلاوت کرنا فرض ہے، جبکہ سوره فاتحہ پڑھنا اور اس کے بعد سورت ملانا دونوں واجب ہیں ، اگر کوئی شخص سورت پڑھ لے لیکن بھول کر یا مسئلہ سے لا علمی میں سورت فاتحہ نہ پڑھے تو فرض تلاوت تو ادا ہو جائے گی ، لیکن فاتحہ نہ پڑھنے کی وجہ سے واجب رہ جائے گا ، اس صورت میں سجدہ سہو کرنے سے نماز درست ہو جائے گی ، اور اگر سجدہ سہو نہیں کیا تو پھر وقت کے اندر نماز کا اعادہ لازم ہوگا اور وقت گزرنے کے بعد نماز ناقص ادا ہو جائے گی اور اس کا اعادہ لازم نہیں ہوگا۔لہذا سائل کی بیوی اگر مسئلہ سے لاعلمی میں اس طرح وتر پڑھتی رہی ہو تو ایسی صورت میں وتر دہرانے کی ضرورت نہیں ،تاہم آئندہ کے لئے صحیح طریقے کے مطابق وتر پڑھنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الھندیۃ : "قال علمائنا - رحمهم الله تعالى - أن ‌كل ‌حيلة ‌يحتال بها الرجل لإبطال حق الغير أو لإدخال شبهة فيه أو لتمويه باطل فهي مكروهة... قال الشيخ الإمام الأجل شمس الأئمة الحلواني - رحمه الله تعالى - الذي كرهها محمد بن الحسن رحمه الله والذي رخص فيها أبو يوسف - رحمه الله تعالى - فقد ذكر الخصاف - رحمه الله تعالى - الحيلة في إسقاط الزكاة وأراد به المنع عن الوجوب لا الإسقاط بعد الوجوب ومشايخنا رحمهم الله تعالى أخذوا بقول محمد - رحمه الله تعالى - دفعا للضرر عن الفقراء فإن الرجل إذا كانت له سائمة لا يعجز أن يستبدل قبل تمام الحول بيوم بجنسها أو بخلاف جنسها فينقطع به حكم الحول أو يهب النصاب من رجل يثق به، ثم يرجع بعد الحول في هبته فيعتبر الحول من وقت الرجوع والقبض ولا يعتبر ما مضى من الحول وكذا في السنة الثانية والثالثة يفعل هكذا فيؤدي إلى إلحاق الضرر بالفقراء."(کتاب الحیل ،390/6،ط، دار الفکر)
وفی رد المحتار : "وإذا فعله حيلة لدفع الوجوب كأن استبدل نصاب السائمة بآخر أو أخرجه عن ملكه ثم أدخله فيه، قال أبو يوسف لا يكره؛ لأنه امتناع عن الوجوب لا إبطال حق الغير.وفي المحيط أنه الأصح.وقال محمد: يكره، واختاره الشيخ حميد الدين الضرير؛ لأن فيه إضرارا بالفقراء وإبطال حقهم مآلا، وكذا الخلاف في حيلة دفع الشفعة قبل وجوبها .وقيل الفتوى في الشفعة على قول أبي يوسف، وفي الزكاة على قول محمد، وهذا تفصيل حسن شرح درر البحار۔"(کتاب الزکوۃ ،باب زکوۃ الغنم،248/2،ط ،دار الفکر)
و فی الهندية: وتجب قراءة الفاتحة وضم السورة أو ما يقوم مقامها من ثلاث آيات قصار أو آية طويلة في الأوليين بعد الفاتحة كذا في النهر الفائق وفي جميع ركعات النفل والوتر. هكذا في البحر الرائق۔ (71/1 ط: دار الفكر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالقیوم قدوس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82944کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات