کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مارکیٹ میں ہماری دکان ہے، جمعہ کے دن جب اذانیں شروع ہو جاتی ہیں ہم دکان میں ہوتے ہیں ۔ اب ہمارے قریب قریب تین مساجد ہیں اور تقریباً دکان سے برابر فاصلہ پر ہے۔ ایک مسجد میں اذان نماز سے تقریبا ایک گھنٹہ پہلے دی جاتی ہے. دوسرے مسجد میں تقریبا ۴۵ منٹ قبل اور تیسرے مسجد میں تقریباً آدھا گھنٹہ پہلے اذان دی جاتی ہے۔ اب ہم دکان کس اذان کے اعتبار سے بند کر دیں؟ اور دورانِ اذان جو کسٹمر پہلے سے بیٹھے ہوتے ہیں ان کو سودا وغیرہ فروخت کر سکتے ہیں کہ نہیں ؟ اور اذان کے بعد جو چیزیں ہم فروخت کرتے ہیں تو کیا وہ رقم ہمارے لئے حرام ہے؟ تو کیا حکم ہے؟
مذکور امور میں اپنے محلہ یا جس مسجد میں نماز جمعہ بجا لاتے ہوں کی اذان معتبر ہے، اس لئے اس میں اذان ہونے کے بعد خرید و فروخت کا معاملہ روک دینا چاہئے اس کے بعد معاملات جاری رکھنا مکروہ ہے اور اس سے حاصل ہو نیوالی آمدنی کا بھی یہی حکم ہے۔
کمافی الدرالمختار: (وكره) تحريما منع الصحة (البيع عند الأذان الأول) اھ(5/101)۔
وفی الدر: ووجب السعی الیھا وترک البیع بالاذان الاول الخ
وفی الشامیۃ: حاصلہ ان السعی نفسہ فرض والواجب کونہ فی وقت الاذان الاول
وفیہ ایضا: والاصح انہ الاول باعتبار الوقت وھو الذی یکون علی المنارۃ بعد الزوال اھ(1/161)۔