السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته
عرض یہ ہے کہ میری شادی کے وقت میری بیوی کا حق مہر ایک تولہ سونا مقرر ہوا تھا۔ اس وقت سونے کی قیمت دو لاکھ روپے تھی۔ میری بیوی نے اپنے والد سے کہا کہ وہ اپنے حق مہر کے بدلے جہیز کا سامان لینا چاہتی ہے، اور اُس وقت اُس نے خود یہ اقرار کیا کہ مجھے صرف دو لاکھ روپے ہی چاہئیں۔ میں نے اُسے اُس میں سے ایک لاکھ پچپن ہزار (1,55,000) روپے دے دیئے تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا باقی رقم مجھے اُسی وقت کی قیمت (یعنی دو لاکھ میں سے صرف 45 ہزار) ادا کرنی ہوگی، یا آج کے موجودہ سونے کے ریٹ کے حساب سے ادا کرنی ہوگی؟
صورت مسئولہ میں اگر نکاح کے وقت بیوی کا حقِ مہر "ایک تولہ سونا" مقرر کیا گیا تھا، تو شریعت کی رو سے سائل پر اسی مقدار میں سونا (یعنی ایک تولہ) بعینہٖ ادا کرنا لازم ہے، کیونکہ مہر عین (مخصوص چیز) کی صورت میں متعین تھا۔ اگر سائل نے بیوی کو سونے کی مکمل مقدار ادا نہیں کی، بلکہ اس میں سے کچھ رقم بطور ادائیگی دے دی ہے، تو وہ رقم سونے کی جزوی ادائیگی شمار ہوگی، حق مہرکے طورپرسونا ہی شرعاً مطلوب رہے گا۔ چاہے آج سونے کی قیمت ماضی سے زیادہ ہو گئی ہو۔ کیونکہ بیوی کا حق سونے کی مقدار میں تھا، قیمت میں نہیں، اور جب کوئی متعین چیز مہر میں مقرر کی جائے تو اس کی مثلی ادائیگی ضروری ہوتی ہے، لہٰذا سائل پرلازم ہے کہ اس بقیہ سونے کی مقدار آج کے مارکیٹ ریٹ کے مطابق ادا کرے۔
کما فی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية : حتى لو تزوجها على ثوب أو مكيل أو موزون وقيمته يوم العقد عشرة فصارت يوم القبض أقل ليس لها الرد وفي العكس لها ما نقص»(1/ 302)
و فی حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي : مطلب في قولهم الديون تقضى بأمثالها۔۔۔قد قالوا إن الديون تقضى بأمثالها۔۔ الخ.(3/ 789)