نکاح فارم پر نکاح کے وقت مہر لکھا "ایک لاکھ باصورت طلع زیور " لیکن نکاح خواں صاحب نے نکاح پڑھا تے ہوئے فرمایا "باعوض ایک لاکھ حق مہر " اب سوال یہ ہے کہ مہر زیور کی صورت میں دیں کہ نقدی کی صورت میں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر نکاح سے قبل فریقین کے درمیان باہمی رضامندی سے ایک لاکھ روپے مالیت کے سونے کے زیورات بطور مہر طے ہوچکے تھے اور یہی مہر نکاح نامہ میں بھی درج کیا گیا تھا، تو شرعاً وہی معتبر ہوگا ، بعد میں ایجاب و قبول کے وقت نکاح خواں کی زبان سے "ایک لاکھ روپے عوض" کے الفاظ ادا ہوجانے سے( جبکہ فریقین کا مقصود اور ان کا سابقہ معاہدہ سونے کے زیورات ہی تھے) مہر کی حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔
لہٰذا شوہر کے ذمہ نکاح نامہ میں درج حق مہر (اس وقت کی حساب سے ایک لاکھ روپے مالیت کے سونے کے زیورات) کی ادائیگی لازم ہوگی،محض ایک لاکھ نقد روپے ادا کرنا کافی نہ ہوگا۔
كما في الفتاوى الهندية: ثم الأصل في التسمية أنها إن صحت وتقررت يجب المسمى، ثم ينظر إن كان المسمى عشرة فصاعدا فليس لها إلا ذلك. اھ ( ج 1، ص 303، الفصل الأول في بيان مقدار المهر، ط: دار الفكر)