زکوۃ و نصاب زکوۃ

پلاٹ اور انشورنس کی رقم پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
81765
| تاریخ :
2025-03-02
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

پلاٹ اور انشورنس کی رقم پر زکوۃ کا حکم

میں الحمد للہ صاحبِ نصاب ہوں اور اچھی تنخواہ پر ملازمت کر رہا ہوں،جوائنٹ فیملی میں رہتا ہوں(اس پراپرٹی میں) جو پراپرٹی والد صاحب کے نام ہے،میں اپنا الگ گھر بنانے کی نیت سے تین پراپرٹیوں میں انویسٹمنٹ کی ،تینوں پراپرٹیوں کی صرف فائل میرے پاس موجود ہے لیکن کوئی فیزیکل جگہ منتخب نہیں کی گئی،کیا مجھے ان خریدی گئی پلاٹ کی قیمت پر زکوٰۃ دینا ہوگی؟
میں نے اپنے بچوں کی تعلیم کی غرض سے دو پالیساں لی رکھی ہیں جن میں ،میں سالانا ایک لاکھ روپے جمع کرواتا ہوں،انشورنس پالیسی کی قیمت تقریبا دس لاکھ روپے ہوچکی ہے،لیکن مجھے رقم پرافٹ کے ساتھ دس سال بعد ملے گی،کیا اس پر ہر سال کے حساب سے زکوۃ دینی ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے مکان بنانے کی غرض سے جو پلاٹ خریدے ہیں ان کی مالیت پر سائل کے ذمہ زکوٰۃ لازم نہیں۔
جبکہ انشورنس پالیسی لینا اگرچہ جائز نہیں ،لیکن اگر کسی نے یہ پالیسی لی ہو تو اس میں جمع کردہ رقم اس شخص کی ملکیت ہوتی ہے،لہذا سائل نے انشورنس کی مد میں جتنی رقم جمع کروائی ہے،اس کی زکوٰۃ بھی سائل کے ذمہ لازم ہے،البتہ فی الفور اس کی ادائیگی لازم نہیں بلکہ جب یہ رقم وصول ہوجائے تو اس وقت اس پر گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ دینا لازم ہوگا،لیکن بہتر یہ ہے کہ ہر سال دیگر اموال زکوٰۃ کے ساتھ انشورنس کی مد میں جمع شدہ رقم کی زکوٰۃ ادا کی جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایۃ:الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق أو الذهب " لقوله عليه الصلاة والسلام فيها " يقومها فيؤدي من كل مائتي درهم خمسة دراهم " ولأنها معدة للاستنماء بإعداد العبد فأشبه المعد بإعداد الشرع وتشترط نية التجارة ليثبت الإعداد.(ج:1،ص:103)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ علیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81765کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات